jump to navigation

Saffron – زعفران December 11, 2017

Posted by Farzana Naina in Country Foods, South Indian Recipe, Traditional Food, Cookery, Flowers, Food.
Tags: , , , , , , ,
trackback

zafraan-saffron 1

زعفران: رنگ و نور کا جادو

تحریر: بشکریہ بی بی سی

زعفران کو نازک پتیوں میں رنگ و نور کا جادو کہا جا سکتا ہے جس کا نہ صرف غذاؤں کو خوشبودار اور رنگین بنانے میں دنیا کے ہرگوشے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے طبی فوائد بھی ہیں۔

یونان و مصر و روما بھی اس کے سحر آگيں اور مدہوش کن اثرات سے نہ بچ سکے۔ زعفران کب اور کیسے وجود میں آیا؟ اس کے متعلق مختلف علاقوں کے دلچسپ افسانے ہیں۔

یونانی اساطیر میں یہ پایا جاتا ہے کہ کِرکس نامی گبرو جوان سی لیکس نامی خوبصورت حسینہ کے عشق میں گرفتار ہوا لیکن حسینہ نے اس کے جذبات کی قدر نہ کی اور اسے فالسی رنگ کے خوبصورت پھول میں تبدیل کر دیا۔ یہ فالسی رنگ کا پھول اب زعفران کہلاتا ہے۔

مصر کی قدیم روایت میں اسے قلوپطرہ اور فرعون شاہوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مصر کے قدیم معبد زعفران کے پانی سے پاک کیے جاتے تھے۔ روم کے بادشاہ ‘نیرو’ کے استقبال کے لیے روم کی شاہراہوں پر زعفران کے پھول بکھیر دیے گئے تھے۔ ہوا کے نرم جھونکوں میں بسی زعفران کی خوشبو اور فرش پر بکھرے نازک پھول ایک دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔

انگلستان کی سرزمین میں زعفران کی آمد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایڈورڈ سوم کے عہد حکومت میں ایک انگریز سیاح مشرق وسطی سے زعفران کے بیج اپنی چھڑی میں چھپا کر لے آيا تھا۔ والڈن شہر میں اس کی کاشت کا آغاز کیا۔ قسمت نے یاوری کی اور پودے پھلنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے والڈن شہر زعفران سے بھر گیا۔

چودھویں صدی میں سپین زعفران کا اہم مرکز تھا اور آج بھی سپین کا زعفران بہترین زعفران مانا جاتا ہے کیونکہ اس کا رنگ گہرا اور خوشبو دیوانہ کردینے والی ہوتی ہے۔

ہندوستان میں بھی زعفران کی آمد کی کہانی دلچسپی سے خالی نہیں۔ 11ھویں یا 12ھویں صدی میں دو صوفی خواجہ مسعود ولی اور شیخ شریف الدین ولی کشمیر کی وادیوں میں بھٹک رہے تھے۔ اچانک بیمار ہوئے اور مدد کی خاطر پاس کے گاؤں پہنچے۔ صحتیاب ہونے پر زعفران کے دو ‘بلب’ یا گانھیں گاؤں کے سربراہ کو نذر کیں۔ ان دو گانٹھوں نے پامپور کی تقدیر بدل دی جہاں آج بھی بڑے پیمانے پر زعفران کی کاشت ہوتی ہے۔ میلوں تک پھیلے زعفران کے کھیت دلفریب سماں پیش کرتے ہیں۔ پامپور اپنے ان دو صوفیوں کو نہیں بھولا ہے اور ان کے مزار پر لوگوں کی آمد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

کشمیر کے معروف دانشور محمد یوسف تینگ کو اس کہانی پر یقین نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زعفران اور کشمیر کا پرانا ساتھ ہے۔ کشیمر کے حکمراں یوسف شاہ چک (86-1579) نے پامپور میں زعفران کی کاشت شروع کی تھی۔ حقیقت خواہ کچھ ہو آج پامپور زعفران کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور وہاں کے دو سو سے زیادہ گاؤں تقریبا ڈھائی ہزار کلو زعفران پیدا کرتے ہیں۔

اکتوبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے سے نومبر کے پہلے ہفتے تک زعفران اپنی بہار پر ہوتا ہے۔ آسمان پر چاند تاروں کا جال اور فرش پر زعفران کی رگین بہار جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔

پامپور کے رہائیشی غلام محمد زعفران کے کھیتوں میں بیٹھ کر نمکین چائے پیتے ہوئے ماضی کی داستان دہراتے ہیں۔ کشمیر کے حکمراں یوسف شاہ چاندنی رات میں زعفران کے کھیتوں کی سیر کو نکلے، مدہوشی کا عالم تھا، مہکتی ہوا کے جھونکے، چاند کی مدھم روشنی میں میلوں تک پھیلے زعفران کے کھیت ہوش لیے جاتے تھے۔ اچانک دور سے آتی ہوئی سریلی آواز نے انھیں بے چین کر دیا۔ ہرکارے دوڑائے گئے۔ پتہ چلا کہ ایک معمولی لڑکی زون نغمہ سرا تھی۔ بادشاہ اس خوبصورت اور سریلی آواز کے سحر میں گرفتار ہو گئے اور انھیں کو اپنی ملکہ بنا کر حبہ خاتون کا نام دیا۔

الغرض نازک پتیوں نے ایسا جادو چلایا کہ انسان بے بس ہو کر رہ گيا۔ کشمیر کے شعبۂ سیاحت نے جشنِ زعفران کی بنا ڈالی۔ جب زعفران کے پھولوں پر بہار آتی ہے تو سارا پامپور اور سیاح رقص و سرود کے شادمانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ آٹھ روزہ سالانہ جشن پامپور کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

کھانوں میں زعفران کا استعمال ایران کی دین ہے اور یہ مغل بادشاہوں کے دسترخوان میں مخصوص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ۔۔زعفران اپنی تمامتر صفات کے ساتھ ایک قیمتی اثاثہ ہے جو عوام کی دسترس سے باہر ہے۔

از: سلمی حسین

The spice saffron, as well as being famously expensive, is packed with antioxidants. It is said to help combat depression and lower blood pressure, to soften your skin and hair and is essential in a broad range of dishes from Swedish buns to paella.

Saffron is central to national cuisines from Morocco to the Himalayas, essential to dishes from risotto Milanese to Kashmiri curry. As well as being a sought-after culinary ingredient the versatile spice is also increasingly being added to medications and cosmetics.

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: