jump to navigation

شمشاد بیگم April 24, 2013

Posted by Farzana Naina in Poetry.
trackback

بدھ 24 اپريل 2013 ,‭ 07:53 GMT 12:53 PST  “Coutesy of BBC Urdu” Shamshad Begum

شمشاد بیگم اپنی منفرد آواز کے لیے ہیشہ یاد کی جائیں گی

’مغل اعظم‘، ’مدر انڈیا‘، ’سی آئی ڈی‘ اور’قسمت‘ جیسی فلموں میں آواز کا جادو جگانے والی گلوکارہ شمشاد بیگم کا 94 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال ہو گیا ہے۔

ان کی بیٹی اوشا رترا نے بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’گزشتہ کئی مہینوں سے ان کی طبیعت ناساز تھی اور انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔گزشتہ رات ان کا انتقال ہوگیا۔‘ 

انھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں ان تجہیز و تکفین کی رسم ادا کر دی گئی۔‘

شمشاد بیگم ہندوستانی فلموں میں پلے بیک سنگر کی صف اول کی کلاسیکل گلوکارہ تھیں اور وہ اپنی منفرد آواز کے لیے جانی جاتی تھیں۔ وہ ممبئی میں اپنی بیٹی اوشا رترا اور داماد کے ساتھ رہتی تھیں۔ انھوں نے گنپت لا بٹّو سے شادی کی تھی جن کا 1955ء میں انتقال ہو گیا تھا۔

انہوں نے لاہور ریڈیو سے 1937 میں اپنی گائیکی کے کیریئر کا آغاز کیا تھا جو آل انڈیا ریڈیو کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

ان کی صاف اور واضح آواز کو سامعین نے بہت پسند کیا جس کی وجہ سے جلد ہی انہیں سارنگی نواز استاد حسین بخش والے نے اپنی شاگردی میں لیا۔

شمشاد بیگم کی آواز سے تو سامعین کی شناسائی تھی ہی مگر لوگوں کو ان کا چہرہ دیکھنے کا موقع 1970 کی دہائی میں ملا، کیونکہ وہ اپنی تصاویر کھنچوانے سے ہمیشہ کتراتی تھیں۔

انہوں نے برصغیر کے نامور موسیقاروں او پی نیر اور نوشاد علی کے ساتھ کام کیا اور ان کے ساتھ گانے والوں میں لتا منگیشکر، آشا بھونسلے اور محمد رفیع شامل تھے۔

لاہور میں موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے ان کی آواز کو مہارت کے ساتھ چند ابتدائی فلموں میں استعمال کیا جن میں 1941 میں بننے والی فلم ’خزانچی‘ اور 1942 میں بننے والی فلم ’خاندان‘ شامل ہیں۔

انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پہلا مغربی طرز کا گانا ’میری جان سنڈے کے سنڈے‘ گایا۔

ان کے گانے آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے آج سے پچاس سال قبل تھے اور کئی گلوکاروں اور موسیقاروں نے ان کے گانوں کے ری مکس تیار کیے جو بے حد مقبول ہوئے۔

شمشاد بیگم 1944 میں ممبئی منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے کئی شہرہ آفاق فلموں میں گانے گائے۔

ان کے نغمے آج بھی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

ان کے گیتوں میں ’لے کر پہلا پہلا پیار‘، ’میرے پیا گئے رنگون‘، ’ کبھی آر کبھی پار لاگا تیر نظر‘، ’کجرا محبت والا انکھیوں میں ایسا ڈالا‘، یا پھر’ کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ‘ شامل ہیں۔

ان کے نغموں میں ’مدر انڈیا‘ کا ہولی کا گیت ’ہولی آئی رے کنہائی‘ کے ساتھ ’مغل اعظم‘ کی قوالی ’تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں‘ گے جیسے مقبول خاص و عام گیت بھی ہیں۔

سنہ 2009 میں شمشاد بیگم کو بھارت کے پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا اسی سال انہیں موسیقی کی دنیا میں ان کی بیش قیمت خدمات کے لیے او پی نیّر اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: