jump to navigation

Women – عورت December 8, 2010

Posted by Farzana Naina in Facts, Feelings, Random.
trackback

عورت

Aurat ka zehan mard ki

تصویر کائنات میں عورت کے ہی دم قدم سے رنگ بھرا ہوا ہے ‘ اس لئے تو کہا گیا ہے کہ ” وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ” مگر یہ کون سی ذات با برکات ہے جس کے وجود نے رویۓ زمین پر ایک رومان پرور ‘ سحر انگیز اور دلکش سا تہلکہ مچا رکھا ہے – عقل آج تک بھی حیران ہے کہ اس کے وجود میں ایسا کیسا سحر ہے کہ جس نے صنف نازک ہونے اور مرد کی ہی پسلی سے بنائی جانے کے باوجود آج کس طرح سے مرد کے دل و دماغ پر حکمرانی کرنے کے قابل ہو گئی ہے – وہ کچھ اس طرح سے مرد کے حواسوں پر چھا سی گئی ہے کہ وہ بدحواس ہو کر چلّا اٹھا کہ ” عورت دنیا کی خوبصورتی ہے ‘ عورت زمین کا دل ہے ‘ عورت محبت کی روح ہے ‘ عورت ایک سحر انگیز نشہ ہے جو ہلکے ہلکے چڑھتا ہوا مرد کے حواسوں پر قابض ہو جاتا ہے ” دوسری طرف کوئی کوئی اس کے بارے میں کہنے لگتا ہے کہ ‘ عورت ایک رات ہے ‘ عورت ایک مسہری ہے ‘ عورت ایک کوٹھا ہے ‘ عورت ایک ڈاک بنگلہ ہے ‘ عورت ایک ہوٹل کا کمرہ ہے اور عورت چاندی کا سکّہ ہے وغیرہ وغیرہ ” بہرحال جس طرح سے مرد نے عورت کو محسوس کیا اسی طرح سے اس کو استمعال بھی کیا اور اس کے بارے میں اپنا اپنا خیال ظاھر بھی کیا ہے- میں سمجھتا ہوں کے عورت نیلے آسمان کی طرح بیکراں ‘ چودھویں رات کے چند کی طرح مدہوش کن ‘ ہلکا ہلکا چڑھتے ہوئے نشہ کی طرح سرور انگیز ‘ پھولوں پر منڈلاتی تتلیوں کی طرح خوبصورت ‘کوکتی کویل کی طرح نغمہ ریز مسجد میں جلتے ہوئے چراغ کی لو کی طرح مقدس چاندنی سے تراشا ہوا ایک نازک سا مجسسمہ ہے جو زمین کا یکتا جمال ہے اور جو کاینات کا واحد حسن ہے – مرد جب عورت کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کو اپنی محبوبہ کے چہرہ میں چودھویں کا چند جگمگاتا نظر آتا ہے ‘ اسکے ہونٹ گلاب کی پنکھڑیاں معلوم ہوتے ہیں ‘اسکی کمر میں ناری کی بیل کی لچک سی محسوس ہوتی ہے ‘ اسکی آواز میں کوئل کی کوک اور بلبل کا نغمہ سنی دینے لگتا ہے – سچ پوچھو تو سارا نظام شمسی عورت کے ہی اشاروں پر ناچتا ہوا نظر آنے لگتا ہے – یہی وجہ ہے کہ انسان بڑا ہو یا چھوٹا ‘ بادشاہ ہو یا فقیر’ امیر ہو یا غریب رات ہوتے ہی عورت کی طرف کھنچ جاتا ہے یوں لگتا ہے جیسے دنیا صرف عورت کی کشش سے ہی قایم و دایم ہے – مرد جب دن بھر کی محنت شاقہ سے تھکا ماندہ گھر کی طرف لوٹتا ہے تو عورت کا مقناطیس اسے اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے اورمرد ایک نرم نرم ‘ملائم ‘گداز و چمکیلے جسم کی وادیوں میں گم ہو کر ساری تھکان کو بھول کر سرشار ہو جاتا ہے – اگر ایسا نہیں ہوتا تو مرد کی رات رات نہیں بلکہ بارہ گھنٹوں کا گھٹا ٹوب اندھیرا بن کر رہ جاتی ہے – اس سے ہٹ کر اگر حالات پر نظر ڈالیں تو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ عورت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی ‘ پھول کی پتی بھی ہے اور تلوار کی دھار بھی ‘ صاف گو بھی اور کینہ ساز بھی ‘پیکر رحمت و شفقت بھی اور مجسم انتقام و حسد بھی ‘ ڈرپوک بھی اور بہادر بھی ‘بھولی بحالی بھی اور چالاک بھی ان تمام متضاد کایفیات کے مد نظر مردوں کی ایک بڑی تعداد نے عورت کو سمجھنے میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہے اور عورت کی صحیح فطرت کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے ازدواجی زندگیوں میں غلط فہمیاں بڑھتی جانے لگی ہیں – ہم زندگی کی بنک سے وہی کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم نے جمع کیا ہے – اگر ہم نے پیار نہیں دیا ہے تو پھر پیار کسطرح سے پا سکتے ہیں ؟ اسطرح سے اگر ہم نسوانیت کا احترام نہیں کریں گے تو پھر عورت ہماری مردانگی کا احترام کیسے کریگی ؟ ازدواج میں معاملہ ‘ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے ‘ والا ہوتا ہے – اسی لئے یہ بات اچھی طرح سے ذهن نشین کر لینا چاہیے کہ ‘ عورت نہ تو آقا سے محبت کر سکتی ہے نہ ہی غلام سے وہ تو صرف ایک ہمسفر سے ہی محبت کر سکتی ہے ‘ جو ہر معاملے میں اس کے شانہ بہ شانہ چل سکے ‘ یہی حال مرد کا بھی ہے ‘ وہ چاہتا ہے کہ عورت خلوت میں اس کے شانہ بہ شانہ چلے غیر ضروری قسم کی شرم و حیا کے چکر میں نہ پڑے – عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر گھرانوں کے مرد طوائفوں کے کوٹھوں کے چکرلگانے لگتے ہیں – اسکی صرف ایک ہی وجہ ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو اپنے گھر میں وہ کچھ نہیں مل پاتا جو وہ چاہتے ہیں – دوسری طرف یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتیں شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی جب انھیں جنسیاتی طور پر وہ کچھ نہیں ملتا جو ان کے جسموں کی ضرورت کو پورا کر سکے یا انھیں پوری طرح مطمئنکر سکے تو وہ کسی دوسرے مرد سے تعلق استوار کر لیتی ہیں – اس لئے ایسے مسئلوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کا تدارک کر لینا ہی عقلمندی ہے – ان کا تدارک صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مرد اور عورتدونوں ہی ایک دوسرے کو کس طرح خوش کیا جا سکتا ہے ان باتوں کا علم حاصل کریں – سماجی’ ذہنی’ خدماتی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے کو خوش کرنے کے گر تو انسان کیسے تیسے سیکھ ہی لیتا ہے کیوں کہ ان پر کسی قسم کے پہرے نہیں لگے ہوتے ہیں مگر مسلہ تو جنسیاتی تعلیمات کا ہے ‘ اس معاملے میں مرد و عورتدونوں ہی اندھیرے میں بھٹکنے لگتے ہیں – جنسی طور پر ایک دوسرے کو خوش اور مطمئن کرنے کے گر ہرمرد و عورت کو سیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس پر ہی ازدواج کی صحت مند بقا کا دارومدار ہے – یقیناً ان ساری باتوں کا پوری طرح سے علم ہونا قدرے مشکل ہے پر ناممکن نہیں ‘ مگر علم ہونے پر جو منزل ملتی ہے وہ اتنی حسین ہوتی ہے کہ اس کے لئے جان کی بازی بھی ہنستے کھلتے لگائی جا سکتی ہے – کوئی چیز پیسوں میں بھی مہنگی ہے اور کوئی چیز لہوں روپئے میں بھی سستی ہوتی ہے ‘ سوال قیمت کا نہیں بلکہ مطلوبہ شے کی افادیت کا ہے – جنسی علم کی افادیت کے لہٰذ سے اتنی ہی اہمیت ہے کہ اس کے لئے کسی بھیقسم کی مشکل کا سامنا کرنا پڑے برداشت کرنا ہو گا کیوں کہ اس سے جو فائدے ہونگے وہ ازدواجی زندگیکو تقدس سے روشناس کروایں گے – آسمانی صحیفوں میں عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جس میںایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے – یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کھیتی کی فصل کا محض ہل اور ہل چلانے والے کی طاقت پر ہی انحصار نہیں ہوتا بلکہ ہل چلانے کی مہارت کے ساتھ ساتھ زمین کی سخت ‘ موسموں کی تبدیلی’ اور ہواؤں کی بدلتی کیفیت کی پہچان بھی ضروری ہوتی ہے-۔

بشکریہ ” آپ کا مددگار ”۔

Comments»

1. Maneeja - February 15, 2011

Brrilian, bohut Sacha likha hai.


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: