jump to navigation

Mohsin Ehsaan – محسن احسان September 24, 2010

Posted by Farzana Naina in Mohsin Ehsaan, Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags:
trackback

ممتاز شاعر و ادیب محسن احسان انتقال فرماگئے


السلام و علیکم

اردو کے تمام اہل ادب کو نہایت افسوس کے ساتھ مطلع کر رہی ہوں کہ بزرگ شاعر، ادیب و دانشور محترم محسن احسان رضائے الہی سے انتقال فرما گئے ہیں۔

”انا للہ و انا الیہ راجعون”

مرحوم کافی عرصے سے اپنی علالت کے سبب برطانیہ میں علاج کے لیۓ مقیم تھے، محسن احسان صاحب کی ادبی خدمات دنیا بھر کے اردودان ادبی حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

فیس بک پر موجود تمام اہل ادب کی جانب سے اظہار تعزیت ہے اس دعا کے ہمراہ کہ پروردگار مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

***

محسن احسان کی غزل دامنِ دل کھینچتی ہے اور جملہ مثبت روایات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کی عکاسی کرتی ہے،

یہ غزل تغزل سے بھی آشنا ہے اور گرد و ہیش کی زندگی کے حساس پہلوؤں سے بھی اکتسابِ جمال کرتی ہے،

اس کا رشتہ اپنی روایت، اپنی تاریخ، اپنی زمین سے بھی استوار ہے اور ان لمحاتی تجربوں سے بھی جنہیں انسانوں نے عہد بہ عہد اپنی زندگیوں میں محسوس کیا ۔

تابش دہلوی

***

جہاں جہاں یہ زمیں خشک قحطِ آب سے ہے

مرے لہو کی یہ بوندیں وہاں وہاں لے جا

*

چراغ اپنے رویوں کو بدل دیں

ہوا اس وقت طوفانی بہت ہے

*

اتنی کوتاہی تو ہوتی نہیں نادان سے بھی

مجھ کو خوف آتا ہے محسن ترے احسان سے بھی

*

ہم دعاگویۓ چمن ہم ہیں ثنا خوانِ بہار

شاد و آباد رہیں سارے عزیزانِ بہار

*

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گیۓ

قبروں سے پوچھتا ہوں مرے یار کیا ہویۓ

محسن احسان کی کتابیں

ناتمام

ناگریز

ناشنیدہ

نارسیدہ

جمل اکمل

مٹی کی مہکار

پھول پھول چہرے

رباعیاتِ خوشحال خان خٹک

رحمان با با

سخن سخن مہتاب

*

برونِ لفظ کہاں ہے تجلیٔ معنی

ہے حرف حرف ستارہ سخن سخن مہتاب

فرزانہ خان نیناں ۔ نوٹنگھم

پاکستان کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم علالت کے بعد لندن میں انتقال کرگئے، اُن کی عمر ستتر برس تھی۔

انھیں لندن میں ہی تین ہفتے قبل کینسر تشخیص ہوا تھا۔

محسن احسان پشاور کے اسلامیہ کالج میں شعبہ انگریزی کے استاد اور سربراہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لندن میں مقیم اپنے بچوں سے اکثر ملنے آتے رہتے تھے۔

ان کی میت تدفین کے لیے پاکستان لے جائی جارہی ہے، جہاں پشاور میں انھیں سپرد خاک کیا جائےگا۔

محسن احسان کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ کے اُس قبیل سے تھا جنھوں نے صوبہ سرحد میں اردو ادب کی آبیاری میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اس کارواں میں فارغ بخاری، رضا ہمدانی، خاطر غزنوی، شوکت واسطی اور احمد فراز جیسی قد آور شخصیات شامل ہیں۔ محسن احسان کا ایک مصرح ہے،

ایک ایک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے

ہائے کیا لوگ میرے حلقۂ احباب میں تھے

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سےمٹ گئے

قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے

ان کی شاعری کے تین مجموعے ’ناشنید‘ ، ’ناتمام‘ اور ’ناگزیر‘ عوامی سطح پر بہت مقبول ہیں۔ اُن کی غزل میں بنیادی حوالہ تو محبت ہی تھا مگر غم دوراں، سماجی ناہمواریاں اور ملک کے سیاسی حالات کی جھلک بھی اُن کی شاعری میں نظر آتی تھی۔

امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دیکر

سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

***

گلزار کے رکھوالوں نے خشبوئیں چرا لیں

باقی جو بچا ہے وہ خس و خاک بچالیں

بشکریہ بی بی سی


Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: