Subah Ke Roop Meinصبح کے روپ میں جب ۔
کے روپ میں جب دیکھنےجاتی ہوں اسے
شیشے کی ایک کرن بن کے جگاتی ہوں اسے
بال کھولے ہوئے پھرتی ہوں کسی خواب کےساتھ
شام کو روز ہی روتی ہوں رُلاتی ہوں اسے
یاد میر ی بھی پڑی رہتی ہے تکیے کے تلے
آخری خط کی طرح روز جلاتی ہوں اسے
راہ میں اس کی بچھا دیتی ہوں ٹوٹی چوڑی
چبھ کے کانٹے کی طرح روز ستاتی ہوں اسے
بھولے بسرے کسی لمحے کی مہکتی خوشبو
گوندھ کر اپنے پراندے میں جھلاتی ہوں اسے
روز آجاتی ہوں کمرے میں ہوا کی صورت
کنڈی کھڑکائے بغیر اس سے چراتی ہوں اسے
بد مزاجی تو نہیں ہے یہ محبت میری
روز لڑتی بھی ہوں پھر روز مناتی ہوں اسے
ایک بھیگے ہوئے نیناں کا سمجھ کر موتی
شام کے نیلے دوپٹے میں لگاتی ہوں اسے








Comments»
No comments yet — be the first.