Tributes- نذرانۂ عقیدت

-
Mumtaz Ahmed Poem
- Mumtaz Ahmed Poem




شوکت عنقا۔ کراچی

درد کی نیلی رگیں 

اجنتا اور الورا کی مورتیاں بنانےوالےکےذہن میں
مجھےیقین ہےتمہارا ہی تصور تھا
قلو پطرہ کےسر پر جب تاج رکھا گیا
تو محبت وادئ نیل میں عام ہوگئی یعنی تمام ہوگئی
وہ محبت تمہاری لفظوں کا اچھنبےتھی
تسلط کی خوشبو تمہارےلکھےہوئےلفظوں سے پھیلتی ہے
ترنم کی نگاہ تمہارے ہی لفظوں کی تصویر سے پھسلتی ہے
سر کا پاتال سے کیا رشتہ ہی،
یہ تمہارےلفظوں کی حقیقت ہے
یہ مجھ پر آشکار ہوا آج،
آج جب تمہاری کتاب دیکھی
لگتا ہےمحبت وادئ سندھ میں عام ہوگئی
!!!


مجھےیقین ہےتمہارا ہی تصور تھا








Comments»
No comments yet — be the first.