

میری شاعری


، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا
جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔
بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔
۔۔
مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔
شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں
پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔
سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔
نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔
۔
مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔
چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔
۔۔
۔۔
جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔۔
شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی
ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے،
ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔
۔۔
کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔
نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔
ان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت،
آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔
۔۔
۔۔
، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔
خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

۔ ۔ ۔ ۔
، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر چل رہی ہوں، دیکھیں انجام کون سی منزل تک لےجاتا ہے۔
what a great website dekhte dekhte neend aajae
ASSALAM O ALYKUM
NAINAAN JI
aapki poetry parhi buhut acha laga
main chaahti hoon aap mujhy join kijiye
or jab kuch naya likhain to plz mujhy info karain :rose
to mujhy aap sy bat karny ka buhut ishteyaaq hy kya aysa ho sakta hy???
WASSAALAM
ASSALAM O ALYKUM
NAINAAN JI
aapki poetry parhi buhut acha laga
main chaahti hoon aap mujhy join kijiye
or jab kuch naya likhain to plz mujhy info karain :rose
to mujhy aap sy bat karny ka buhut ishteyaaq hy kya aysa ho sakta hy???
WASSAALAM
Thanks
ap ko parh kar lagta ha taisa moteyon sa lafzon ko saja deya ho
aaaiiiiiiiiiinnnnnnnnn
ye mere comments naseem k naam sy kiun reply ho gay
میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں۔۔۔
وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ
wah zabrdas
naina ji u r tooooogoooood
Thanks to all of you.
Bless.