jump to navigation

Maulana Zafar Ali Khan – مولانا ظفر علی خان

مولانا ظفر علی خان

وہ شمع اُجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں

اِک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں افلاک کے گنبد گنبد پر

وحدت کی تجلّی کوند گئی آفاق کے سینا زاروں میں

گر ارض و سما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو

یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نوُر نہ ہو سیّاروں میں

وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے

ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں

جس میکدے کی ایک بوند سے بھی لب کج کلہوں کے تر نہ ہوئے

ہیں آج بھی ہم بے مایہ گدا اس میکدے کے سرشاروں میں

جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا

وہ راز اِک کملی والے نے بتلادیا چند اشاروں میں

ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی بوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و علیؓ

ہم مرتبہ ہیں یارانؓ نبی کچھ فرق نہیں ان چاروںؓ میں

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول

تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشۂ بتول

اسلام کے لہو سے تری پیاس بجھ گیٔ

سیراب کر گیا تجھے خونِ رگِ رسول

کرتی رہے گی پیش شہادت  حسین کی

آزادیٔ حیات کا یہ سرمدی اصول

چڑھ جاۓ کٹ کے سر ترا نیزے کی نوک پر

لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول


Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 66 other followers