jump to navigation

Classic Urdu Poetry – استاد شعرأ کا کلام

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت

اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی

اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

ہر زخمِ جگر داورِ محشر سے ہمارا

انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو

آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا

صد موسمِ گُل ہم کو تہِ بال ہی گزرے

مقدور نہ دیکھا کبھی بے بال و پری کا

اس رنگ سے چمکے ہے پلک پر کہ کہے تو

ٹکرا ہے ترا اشک، عقیقِ جگری کا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا

ٹک میر جگرِ سوختہ کی جلد خبر لے

کیا یار بھروسہ ہے چراغِ سحری کا

(میر تقی میر)

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا

تجھے کس نے روک رکھّا، ترے جی میں کیا یہ آئی

کہ گیا تو بھول ظالم، اِدھر التفات کرنا

ہوئی تنگ اس کی بازی مری چال سے، تو رخ پھیر

وہ یہ ہمدموں سے بولا، کوئی اس سے مات کرنا

یہ زمانہ وہ ہے جس میں، ہیں بزرگ و خورد جتنے

انہیں فرض ہو گیا ہے گلۂ حیات کرنا

جو سفر میں ساتھ ہوں ہم تو رہے یہ ہم پہ قدغن

کہ نہ منہ کو اپنے ہر گز طرفِ قنات کرنا

یہ دعائے مصحفی ہے، جو اجل بھی اس کو آوے

شبِ وصل کو تُو یا رب، نہ شبِ وفات کرنا

(غلام ہمدانی مصحفی)

مجھ سے منہہ پھیر لیا غیر کے دکھلانے کو

اُس نے یہ چھیڑ نکالی مجھے ترسانے کو

کیا جلے خاک کہ آنے نہیں دیتا کوئی

شعلہ شمع کے نزدیک بھی پروانے کو

پھاڑ کر اپنا گریباں ابھی مجنوں کی طرح

جی میں آتا ہے نکل جائیے ویرانے کو

عشقِ مجنوں سے یہ افسانہ نہیں کم لیکن

کون سنتا ہے مرے درد کے افسانے کو

جو گزرتا ہے مرے جی پہ جدائی میں تری

آگہی اس سے نہ اپنے کو، نہ بیگانے کو

واں ہی اٹھ چلتے ہو اِک بات کے کہتے صاحب

کتنے چالاک ہو تم غیر کے گھر جانے کو

مصحفی کعبے میں اب دل نہیں لگتا اپنا

ہم بھی اُٹھ جاویں گے یاں سے کسی بت خانے کو

(غلام ہمدانی مصحفی)

ذرا ہم سے بھی ملتے جائیے گا

کبھو تو اس طرف بھی آئیے گا

ہمارا دل ہے قابو میں تمہارے

بھلا جی کیوں نہ اب ترسائیے گا

جو ہم رونے پہ آویں گے تو اے ابر

بجائے آب، خوں برسائیے گا

ق

کہا اے مصحفی میں اُس سے اک دن

کہ بوسہ آج تو دلوائیے گا

جواب اس نے دیا مجھ کو کہ صاحب

کوئی یہ وقت ہے؟ پھر آئیے گا

(غلام ہمدانی مصحفی)

خورشید کو سایہ میں زلفوں کے چھپا رکھا

چتون کی دکھا خوبی سرمہ کو لگا رکھا

سویا تھا لپٹ کر میں اس ساتھ ولے اس نے

پہلو سے میرے پہلو تا صبح جدا رکھا

معمار نے قدرت کے طاقِ خمِ ابرو کو

موقعے سے بنایا تو ٹک لے کے جھکا رکھا

کس منہ سے اجل کو اب منہ اپنا دکھائیں گے

ہم میں تری الفت نے کہہ تو ہی کہ کیا رکھا

قاصد جو گیا میرا لے نامہ تو پھر اس نے

نامہ کے کئے پرزے قاصد کو بٹھا رکھا

بے یار و دیار اپنے جیتا تو رہا میں پر

رکنے نے میرے جی کے دم میرا خفا رکھا

کس لب کے تبسّم نے چھڑکا تھا نمک ان پر

زخموں کے الم نے شب تا صبح مزا رکھا

کیا جانئے کب کا تھا میرا یہ فلک دشمن

جو اُس مہِ تاباں کو نت مجھ سے جدا رکھا

میں اپنے ہنر کا ہی بندہ ہوں کہ کل میں نے

پہلو میں دل اپنے کو پیکاں سے سجا رکھا

دیکھ اُس کی ادا یارو بس میں تو گیا مر ہی

جوں ہاتھ کو قاتل نے قبضہ پہ ذرا رکھا

اے مصحفی میں کس کی رفتار کا کشتہ تھا

ہر شعر میں میں نے جو انداز نیا رکھا

(غلام ہمدانی مصحفی)

از بس کہ چشمِ تر نے بہاریں نکالیاں 

مژگاں ہیں اشکِ سرخ سے پھولوں کی ڈالیاں

دل میں خیالِ زلف سے طوفاں نہ کیوں کہ ہو 

اکثر گھٹائیں اٹھتی ہیں ایدھر سے کالیاں

کیا اعتماد یاں کے وکلا عزل و نصب کو

ایدھر تغیّراں تو اُدھر ہیں بحالیاں

اس کی کمر تو کاہے کو پتلی ہے اس قدر

یہ ہم سے شاعروں کی ہیں نازک خیالیاں

کل کر رہا تھا غیر سے نظروں میں گفتگو

پر دیکھتے ہی کچھ مرے آنکھیں چرالیاں

اے مصحفی! تُو اِن سے محبت نہ کیجیو

ظالم غصب ہی ہوتی ہیں یہ دلّی والیاں

(غلام ہمدانی مصحفی)۔


محتسب آیا بزم میں، ساقی لے آ شراب کو

یہ نہ سمجھ کہ شب پرک دیکھے گی آفتاب کو

آنکھوں کا میری ان دنوں، یارو ہے طرفہ ماجرا

میں تو روؤں ہوں اُن کے تئیں ہنستی ہیں یہ سحاب کو

دم ہی رہا یہ پیرہن، تو تو ہو اشک بہہ گیا

جن نے نہ دیکھا ہو مجھے، دیکھے وہ جا حباب کو

پند سے تیری زاہدا ! حال مرا یہ مے سے ہے

سگ کا گزیدہ جس طرح دیکھ ڈرے ہے آب کو

مجنوں بہ ریگِ بادیہ کیوں نے کرے شمارِ غم

یاں نہ تو جا شمار کی، دخل نہ یاں حساب کو

موسمِ گُل میں اب کے سال، بادہ بغیر ساقیا

ہم نے کیا بہ جامِ چشم، خونِ دلِ خراب کو

یار کے بیتِ ابرو پر خال نہیں، وہ ہے نقط

آفریں ہے صد آفریں صاحبِ انتخاب کو

خامشی موجبِ رضا کب ہو سوالِ بوسہ کی

تنگی ہی اس دہن کی راہ دیتی نہیں جواب کو

سودا امیدِ وصل کی کس کو ہے یاں کہ رہ نہیں

اپنے دل اور چشم میں ایسے خیال و خواب کو

(مرزا رفیع سودا)

چمن ہے کس کے گرفتار زلف و کاکل کا

کہ اس قدر ہے پریشان حال سنبل کا

کبھی گزر نہ کیا خاک پر مری ظالم

میں ابتدا ہی سے کشتہ ہوں اِس تغافل کا

فلک خوشی سے تو جو کچھ عوض کرے میں کروں

سوائے غم کے ہے مایہ مرے توکّل کا

خبر شتاب لے سودا کے حال کی پیارے

نہیں ہے وقت مری جان یہ تامّل کا

(مرزا رفیع سودا)

نہ کھینچ اے شانہ ان زلفوں کو، یاں سودا کا دل اٹکا

اسیرِ ناتواں ہے یہ، نہ دے زنجیر کو جھٹکا

میاں میں‌ رات کو سن ہر کسی کے پاؤں کا کھٹکا

اُٹھایا سر کو بالیں سے تو پھر دیوار سے پٹکا

نہ آنکھوں میں تری جادو، نہ ہرگز سحر زلفوں میں

یہ دل جس سے ہے دیوانہ محبت کا ہے وہ لٹکا

پرے رہ برق، خارِ آشیاں میرے سے کہتا یوں

اڑے گا دھجیاں ہو کر ترا دامن جو یاں اٹکا

نواحی میں ترے کوچے کی ہے یہ حال سودا کا

کہ جوں چُغد آشیاں گم کرکے بستی میں پھرے بھٹکا

(مرزا رفیع سودا)

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا

کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا

سرگرمِ نالہ اِن دنوں میں بھی ہوں عندلیب

مت آشیاں چمن میں مرے متّصل بنا

جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق

بولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سِل بنا

جس تیرگی سے روز ہے عشّاق کا سیاہ

شاید اسی سے چہرہء خوباں پہ تِل بنا

لب زندگی میں کب ملے اُس لب سے اے کلال

ساغر ہماری خاک کو مت کرکے گِل بنا

اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر

ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا

سن سن کے عرضِ حال مرا یار نے کہا

سودا نہ باتیں بیٹھ کے یاں متّصل بنا

(مرزا رفیع سودا)

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 66 other followers