Classic Urdu Poetry – استاد شعرأ کا کلام
- Zauq’s Ghazal 2
- Zauq’s Ghazal 1
- Yaas Yagana Changezi
- Yaas Yagana Changezi
- Wali Dakani
- Shakeb Jalali’s last ghazal
- Shabnum Roomani sang-e-chehra
- Shabnum Roomani paighambaron
- Shabnum Roomani nai-nai
- Shabnum Roomani naghmagi – Ab bhi
- Shabnum Roomani Naaz
- Shabnum Roomani meri-nazar
- Shabnum Roomani meri-husti
- Shabnum Roomani Meray pyar ka qissa
- Shabnum Roomani 1
- Rustam Naami
- Rustam Naami
- Pandit Hari Chand Akhtar
- Momin Khan Momin
- Mir Taqi Mir
- Mir Taqi Mir
- Mir Taqi Mir
- Mir Dard Dehlvi
- Mir Taqi Mir
- Majrooh Sultan Puri
- Majaz Lakhnavi
- Majaz Lakhnavi
- Majaz Lakhnavi
- Kavish Badri’s ghazal
- Ijlaal Majeed
- Iftikhar Arif 3
- Iftikhar Arif 2
- Iftikhar Arif 1
- Ibrahim Ashk
- Hafeez Jaunpuri
- Firaq Gorakhpuri
- Firaq Gorakhpuri
- Fazal Taabish – Yeh zindagi hai
- Famous Couplets
- Andaleeb Shadani 1
- Ameer Meenai
- Allama Iqbal
- Ali Abbas Umeed 2
- Ali Abbas Umeed 1
- Akhtarul Iman
- Akhtar Sherani 2
- Akhtar Sherani
- Adil Mansoori 2
- Adil Mansoori 1
- Abdul Majeed Salik 2
- Abdul Majeed Salik
- Abdul Hameed Adam
- Aatish’s Ghazal 2
- Aatish’s Ghazal 1
- Shakeb Jalali
- Shakeb Jalali
- Shakeb Jalali
- Shabbir Hasan Khaan Josh Malihabaadi
- Sahir Ludhianwi
- Moin Ahsan Jazbee Jazbi
- Mir Dard Dehlvi
- Majaz Lakhnavi
- Majaz Lakhnavi
- Krishen Adeeb
- Khaar Dehlvi
- Shabbir Hassan Khan Josh Malihabaadi
- Firaq Gorakhpuri
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخمِ جگر داورِ محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو
آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسمِ گُل ہم کو تہِ بال ہی گزرے
مقدور نہ دیکھا کبھی بے بال و پری کا
اس رنگ سے چمکے ہے پلک پر کہ کہے تو
ٹکرا ہے ترا اشک، عقیقِ جگری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
ٹک میر جگرِ سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسہ ہے چراغِ سحری کا
(میر تقی میر)
ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا
تجھے کس نے روک رکھّا، ترے جی میں کیا یہ آئی
کہ گیا تو بھول ظالم، اِدھر التفات کرنا
ہوئی تنگ اس کی بازی مری چال سے، تو رخ پھیر
وہ یہ ہمدموں سے بولا، کوئی اس سے مات کرنا
یہ زمانہ وہ ہے جس میں، ہیں بزرگ و خورد جتنے
انہیں فرض ہو گیا ہے گلۂ حیات کرنا
جو سفر میں ساتھ ہوں ہم تو رہے یہ ہم پہ قدغن
کہ نہ منہ کو اپنے ہر گز طرفِ قنات کرنا
یہ دعائے مصحفی ہے، جو اجل بھی اس کو آوے
شبِ وصل کو تُو یا رب، نہ شبِ وفات کرنا
(غلام ہمدانی مصحفی)
مجھ سے منہہ پھیر لیا غیر کے دکھلانے کو
اُس نے یہ چھیڑ نکالی مجھے ترسانے کو
کیا جلے خاک کہ آنے نہیں دیتا کوئی
شعلہ شمع کے نزدیک بھی پروانے کو
پھاڑ کر اپنا گریباں ابھی مجنوں کی طرح
جی میں آتا ہے نکل جائیے ویرانے کو
عشقِ مجنوں سے یہ افسانہ نہیں کم لیکن
کون سنتا ہے مرے درد کے افسانے کو
جو گزرتا ہے مرے جی پہ جدائی میں تری
آگہی اس سے نہ اپنے کو، نہ بیگانے کو
واں ہی اٹھ چلتے ہو اِک بات کے کہتے صاحب
کتنے چالاک ہو تم غیر کے گھر جانے کو
مصحفی کعبے میں اب دل نہیں لگتا اپنا
ہم بھی اُٹھ جاویں گے یاں سے کسی بت خانے کو
(غلام ہمدانی مصحفی)
ذرا ہم سے بھی ملتے جائیے گا
کبھو تو اس طرف بھی آئیے گا
ہمارا دل ہے قابو میں تمہارے
بھلا جی کیوں نہ اب ترسائیے گا
جو ہم رونے پہ آویں گے تو اے ابر
بجائے آب، خوں برسائیے گا
ق
کہا اے مصحفی میں اُس سے اک دن
کہ بوسہ آج تو دلوائیے گا
جواب اس نے دیا مجھ کو کہ صاحب
کوئی یہ وقت ہے؟ پھر آئیے گا
(غلام ہمدانی مصحفی)
خورشید کو سایہ میں زلفوں کے چھپا رکھا
چتون کی دکھا خوبی سرمہ کو لگا رکھا
سویا تھا لپٹ کر میں اس ساتھ ولے اس نے
پہلو سے میرے پہلو تا صبح جدا رکھا
معمار نے قدرت کے طاقِ خمِ ابرو کو
موقعے سے بنایا تو ٹک لے کے جھکا رکھا
کس منہ سے اجل کو اب منہ اپنا دکھائیں گے
ہم میں تری الفت نے کہہ تو ہی کہ کیا رکھا
قاصد جو گیا میرا لے نامہ تو پھر اس نے
نامہ کے کئے پرزے قاصد کو بٹھا رکھا
بے یار و دیار اپنے جیتا تو رہا میں پر
رکنے نے میرے جی کے دم میرا خفا رکھا
کس لب کے تبسّم نے چھڑکا تھا نمک ان پر
زخموں کے الم نے شب تا صبح مزا رکھا
کیا جانئے کب کا تھا میرا یہ فلک دشمن
جو اُس مہِ تاباں کو نت مجھ سے جدا رکھا
میں اپنے ہنر کا ہی بندہ ہوں کہ کل میں نے
پہلو میں دل اپنے کو پیکاں سے سجا رکھا
دیکھ اُس کی ادا یارو بس میں تو گیا مر ہی
جوں ہاتھ کو قاتل نے قبضہ پہ ذرا رکھا
اے مصحفی میں کس کی رفتار کا کشتہ تھا
ہر شعر میں میں نے جو انداز نیا رکھا
(غلام ہمدانی مصحفی)
از بس کہ چشمِ تر نے بہاریں نکالیاں
مژگاں ہیں اشکِ سرخ سے پھولوں کی ڈالیاں
دل میں خیالِ زلف سے طوفاں نہ کیوں کہ ہو
اکثر گھٹائیں اٹھتی ہیں ایدھر سے کالیاں
کیا اعتماد یاں کے وکلا عزل و نصب کو
ایدھر تغیّراں تو اُدھر ہیں بحالیاں
اس کی کمر تو کاہے کو پتلی ہے اس قدر
یہ ہم سے شاعروں کی ہیں نازک خیالیاں
کل کر رہا تھا غیر سے نظروں میں گفتگو
پر دیکھتے ہی کچھ مرے آنکھیں چرالیاں
اے مصحفی! تُو اِن سے محبت نہ کیجیو
ظالم غصب ہی ہوتی ہیں یہ دلّی والیاں
(غلام ہمدانی مصحفی)۔
















































































































Comments»
No comments yet — be the first.