Quantum of Solace (2008) is the 22nd James Bond film November 4, 2008
Posted by Farzana Naina in Film and Music.Tags: James Bond, Quantum of Solace
trackback
بانڈ فلم نے ریکارڈ توڑ دیے
اولگا کوریلنکو اس فلم میں بانڈ کے ساتھ ہیں
سونی سٹوڈیو نے کہا ہے کہ بانڈ سیریز کی نئی فلم نے ریلیز کے پہلے ہی دن برطانیہ میں باکس آفس کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور فلم نے 4.9 ملین پاؤنڈز کا بزنس کیا ہے۔
اس فلم نے ‘ہیری پوٹر اینڈ دا گوبلیٹ آف فائر‘ کی اوپننگ کا ریکارڈ توڑا ہے۔ اس فلم نے ریلیز کے پہلے دن 4.025 ملئین پاؤنڈ کا بزنس کیا تھا۔
‘ کوانٹم آف سولیس‘ نامی اس فلم ميں ڈینئل کریگ بطور ہیرو اداکاری کر رہے ہیں۔

فلم کی عوام کے لیے ریلیز سے قبل بدھ کو لندن میں ہوئے ورلڈ پریمیئر میں پرنس ولیم اور پرنس ہیری بھی شامل ہوئے تھے۔
پہلے دن کے بزنس نے دو ہزار چھ کی بانڈ فلم ‘کسینو رویال‘ کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس فلم نے ریلیز کے پہلے دن 2.9 ملین پاؤنڈز کا بزنس کیا تھا۔ حالانکہ ‘کسینو رویال ‘ کی ناقدین اور فلم شائقین دوونوں کی ہی جانب سے کافی ستائش کی گئی تھی۔
‘ کسینو رویال‘ میں ہی پہلی مرتبہ ڈینئل کریگ نے بانڈ کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم سال دو ہزار چھ کی سب سے مقبول فلم کے طورپر سامنے آئی تھی اور اس نے برطانیہ کے باکس آفس پر 50 ملین پاؤنڈز کا بزنس کیا تھا۔
بانڈ سیریز کی حالیہ فلم کی کہانی ميں بانڈ اپنی معشوقہ کے قاتلوں سے بدلہ لیتا ہے۔ فلم ناقدین نے اس فلم پر ملا جلا ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔
ڈیلی ٹیلی گراف میں مارک موناہن نے لکھا ہے’ فلم دیکھنے والوں کو بانڈ کے کردار میں کریگ ضرور متاثر کریں گے ۔ ان کا کردار ایک غصیل، غیر جزباتی اور جنون سے بھرا ہوا ہے۔ ‘
انہوں نے مزید لکھا ہے’ لیکن بعض مکالمے بے حد سست ہیں اور اس انداز میں لکھے گئے ہیں کہ یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اصل میں دھوکہ کس کو کون دے رہا ہے۔‘
ٹائمز میں جیمز کرسٹوفر نے لکھا ہے کہ یہ ایک دلچسپ فلم اور نئے بانڈ کے علاوہ اس فلم میں کوئی اور اتنا اچھا کام نہیں کر سکا ہے۔

ائین فلیمنگ کے خطوط کی نیلامی
خطوط کی نیلامی فیلیمنگ کی پیدائش کے سوویں سال کے موقع پر کی جا رہی ہے
مشہورِ زمانہ جاسوس جیمز بونڈ کے خالق ائین فلیمنگ اور ان کی حقیقی مس مینی پینی کے خطوط کی نیلامی کی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ بولی ہزارہا پاؤنڈ تک جائے گی۔
جیمز بونڈ کی فلموں میں مس مینی پینی برطانوی خفیہ ادارے کے ایجنٹ جیمز بونڈ کے سربراہ ‘ایم‘ کی سیکریٹری کے طور پر جانی جانے والی مس مینی پینی کا نام فلیمنگ کے افسانوی کردار کے طور پر جین مینی پینی ہوتا ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ فلیمنگ کی ٹائپنگ سیکریٹری کے طور پر جس خاتون کا انتخاب کیا گیا اس کا نام بھی جین سے شروع ہوتا ہے۔
جین فریمپٹن کو شروع میں فلیمنگ کے کردار 007 کے مسودوں کو ٹائپ کرنے کے لیے ملازم رکھا گیا تھا لیکن فریمپٹن نے بتدریج اس کام میں اس حد تک مہارت حاصل کر لی کہ کہانی کی نباوٹ میں بھیح مشورے دینے لگی۔
نیلامی کے پیش کیے جانے والے خطوط میں فلیمنگ کے ناولوں ‘تھنڈر بال‘، ‘کیو اینڈ لِٹ ڈائی‘ اور ‘مین ود گولڈن گن‘ کا ذکر آتا ہے۔
ان کی خطوط کی نیلامی ڈورسٹ نامی نیلام گھر کر رہا ہے جسے نیلامی کرنے والوں کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے۔
فیلیمنگ کی پیدائش کے سوویں سال کے حوالے سے ان خطوط میں غیر معمولی دلچسپی پائی جاتی ہے۔
فیلنگ نے مسز فریمپٹن کے نام 1960 میں لکھے جانے والے ایک خط میں فلیمنگ نے اپنے ‘ناول تھنڈر بال‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے: ‘میرا خیال ہے کہ یہ ٹرانسکرپٹ کچھ اچھا نہیں ہے۔ میں انتہائی ممنون ہوں گا اگر آپ اس کے کسی پہلو کے بارے میں اپنی ذہانت کو بروئے کار لائیں‘۔
مسز فریمپٹن کو کبھی فلیمنگ سے ملنے کا موقع نہیں ملا لیکن وہ ان کے جاسوس کردار میں کی مہم جوئیوں میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور انہوں نے ایک موقع پر فلیمنگ کو لکھا: ‘مجھے اب تک تھنڈر بال کے اختتام پر تاسف ہے، مس سوچتی ہوں بلوفِلڈ کا کیا ہوا؟ کیا وہ ایک اور محاذ آرائی کے لیے زندہ رہا‘۔
فلمی کردار بونڈ اور مس میینی پینی فلیمنگ کے تخلیق کردہ ایسے کردار ہیں جن میں لوگوں کی دلچسپی اب تک ختم نہیں ہوئی
نیلامی کی معاون ایمی برینن کا کہنا ہے کہ ‘مسز فریمپٹن دراصل ایک ذہین خاتون تھیں۔ انہوں فرانسیسی زبان میں بھی ڈگری کی تھی جسے انہوں نے اپنے گھر والوں سے خفیہ رکھا تھا‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘ اس کے علاوہ بھی ان میں کئی خوبیاں تھیں۔ وہ ناول ٹائپ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھنے میں بھی گھری دلچسپی رکھتی تھیں۔ اسی دلچسپی کی بنا پر وہ ناولوں کی کہانیوں کے بارے میں بھی رد و بدل کے مشورے دینے لگیں اور در حقیقیت فلیمنگ ان کے ایسے مشورے کا خیرمقدم بھی کرتے تھے‘۔
ایمی برینین کا کہنا ہے کہ ‘ٹائپسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فلیمنگ کے ناولوں کی ایڈیٹر بھی تھیں اس کے علاوہ انہیں ہی سب سے پہلے فلیمنگ کے ناولوں کو پڑھنے کا موقع ملتا تھا‘۔
برینین کے مطابق ‘ان کے تعلقات پیشہ ورانہ بھی تھے اور دانشورانہ سطح پر ذاتی بھی‘۔
Courtesy Of BBC
Quantum of Solace (2008) is the 22nd James Bond film by EON Productions, released in the United Kingdom on 31 October 2008 and due in North America on 14 November. The sequel to the 2006 film Casino Royale, it is directed by Marc Forster, and features Daniel Craig’s second performance as James Bond. In the film, Bond battles Dominic Greene (Mathieu Amalric), a member of the Quantum organisation posing as an environmentalist, who intends to stage a coup d’état in Bolivia to take control of its water supply. Bond seeks revenge for the death of Vesper Lynd, and is assisted by Camille (Olga Kurylenko).
Producer Michael G. Wilson created the film’s plot while Casino Royale was shooting. Neal Purvis, Robert Wade, Paul Haggis and Joshua Zetumer contributed to the script. The title was chosen from a 1960 short story in Ian Fleming’s For Your Eyes Only, though the film does not contain any elements of the original story. Location filming took place in Panama, Chile, Italy and Austria, while interior sets were built and filmed at Pinewood Studios. Forster aimed to make a modern film that also featured classic cinema motifs: an antique aeroplane was used for a dogfight sequence, and Dennis Gassner’s set designs are reminiscent of Ken Adam’s work on several early Bond films. Taking a course away from the usual Bond villains, Forster rejected any grotesque appearance for the character Dominic Greene to emphasize the hidden and secret nature of the film’s (and society’s) modern day corporate villains.



Comments»
No comments yet — be the first.