Welcome-خوش آمدید October 30, 2006
Posted by Farzana Naina in Asian Bridal Makeup, Asian Photographer, Pakistani Poetess, Urdu.Tags: Welcome
trackback


میری شاعری
میری شاعری میرے بچپن
اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں۔۔۔
وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے
، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا
جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔
گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ
بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔
۔۔
گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔
پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں،
مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ
گئے ہیں۔۔۔
میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض،
شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں
پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔
رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔
لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں
سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔
۔۔
نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک،
نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔
۔
پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی
تھرک پیدا کردیتےہیں
۔۔۔
شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔
مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔Hymns شیلنگ کی
سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔
۔۔
کریم کافی،
مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔
۔۔
سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا گھر،مشرق کے سورج چاچا اور
چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔
وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔
۔۔
جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔
۔۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی
تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر
کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.
شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی
ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری
ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے،
ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔
سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،
معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔
شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،
جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔
شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔
۔۔
صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس
کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔
شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔
۔
کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔
۔
شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے
نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔
ا
ان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت،
آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔
۔۔
ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔
۔۔
شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے
، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے
یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت
بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔
یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔
یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔
۔۔
شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ،
خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید شیور لیٹ کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔
یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں
،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرارطمانیت کے ساتھ چھن چھن کر
دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے
، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں،
بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔
شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔
شاعری کے رموز واوقاف ، اوزان، بحور وغیرہ پر مہارت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں ،استاد شعرا کی برابری میرا شیوہ نہیں، میری تشبیہات اور استعارے کسی سے مستعار نہیں لئے گئے، مجھےاپنی مرضی کےالفاظ کا
تانا بانا بننا اچھا لگتا ہے، استاد شعراءنےکمال محبت سےمجھےسمجھایا کہ بی بی اپنے ہنر کو تراش کر ہیرا بناؤ ،ابھی جن پابندیوں پر چیخ پڑتی ہو، کل یہی کام آئیں گی۔ ۔ ۔
سو میں ایک سعادت مند بچی کی طرح پابندیوں والی کڑوی گولیاں نگلنےکی کوشش کر رہی ہوں
،کوہ نور ہیرے
کی جستجو کب تک رہےگی ،کچھ خبر نہیں۔ ۔ ۔ !۔ ۔ ۔ ۔
میں اس کتاب اور کلام کے لئے ہر اس شخص کی ممنون ہوں جس نےایک چھوٹا سا بھی مشورے کا موتی میری جھولی کی نذر کیا۔۔۔
یہی شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سےبادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال کر
، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر چل رہی ہوں، دیکھیں انجام کون سی منزل تک لےجاتا ہے۔
فرزانہ نیناں
http://naghmaosher.mypodcast.com/
مندرجہ بالا لنک پر آپ میرا ریڈیوپروگرام اور میری شاعری سن سکتے ہیں ۔
http://www.farzanaakhtar.com/
http://www.akhtarkhan.com/
ISLAMABAD:
Mushaira held in honour of expat poet
(Reporter of Dawn news paper)
• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.
• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.
• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).
• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).
Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.
She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.
Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.
Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.
The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Jazib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.
In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.










Nice site….
Hey was not looking for this site, but good stuff….
hi.
man u have done quite a work here…
nice blog… its v interactive…
can we add each other in our blog roll?
just searched by….
God love yahoo, neat stuff. All the best….
Its been a long time that you have written something, please keep writing.
What a BLOGGGGGGGGG
I am a big fan of yours starting today… I am so disappointed i didn’t find this blog earlier. Please work on marketing this blog as all poetry lovers will appreciate your efforts.
Thanks Adnaan, I don’t know how to …..any suggestions ???
I am looking for the same song as you are, Zindagi aik bar milti hey, bun jao meray tum aik bar. If you have already this song, I will highly appreciate if you load it on youtube.