jump to navigation

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, British Pakistani Poetess, English Literature, English Poetry, Famous Pakistani in uk, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Literature, Makeup Artist, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Radio Presenter, Shairy, Sher, Sindh, Sindhi, Sufi Poets, Tv Presenter, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags: , ,
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔

اس کتاب کي قيمت آٹھ برطانوی پاؤنڈ ہے، درج ذیل ای ميل کے ذريعے اپنا پتہ بھجواکر کتاب حاصل کیجئے

بيرونٍ برطانيہ ادائيگی بذريعہ پوسٹل آرڈر جبکہ اندرونٍ برطانيہ چيک اور پوسٹل آرڈر دونوں کے ذريعے کی جا سکتی ہے-
اي ميل کا پتہ :

farzana@farzanaakhtar.com
farzananaina@yahoo.co.uk

My Book Cover


ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔

Jagjit Singh – جگجیت سنگھ October 10, 2011

Posted by Farzana Naina in Art, Film and Music, Ghazal, Ghazal, Kavita, Mushaira, Music, Nazm, Poetry, Radio, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
2 comments

پير 10 اکتوبر2011

بھارت میں غزلوں کے معروف گلوکار اور غزل گائیک جگجیت سنگھ کا ممبئی کے لیلا وتی ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر ستّر برس تھی۔

گزشتہ ہفتہ برین ہیمبرج کے سبب انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ سوگواروں میں وہ اپنی اہلیہ چترا داس کو چھوڑ گئے ہیں۔

جس روز انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا اس روز وہ ممبئی میں پاکستان کے مشہور زمانہ گلوکار غلام علی کے ساتھ مشترکہ پروگرام پیش کرنے والے تھے۔

جگجیت سنگھ کے ایک ہی بیٹا تھا۔ جو جوانی میں ہی ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

آزادی کے بعد بھارت میں غزل گائیکی کے فن کے حالات اچھے نہیں رہے تھے لیکن جگجیت نے اس فن کو دوبارہ زندہ کیا اور غزل کو درباروں یا ادب کی محفلوں سے نکال کر عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جگجیت سنگھ غزل گلوکاری کے لیے بھارت میں تو مشہور ہیں ہی لیکن ان کے مداح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

جگجیت سنگھ ریاست راجستھان کے شری گنگا نگر میں آٹھ فروری انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام جگموہن رکھا گيا تھا لیکن ایک خاندانی ستارہ شناش کی صلاح پر ان کا نام جگجیت سنگھ کر دیا گیا۔

جگجیت سنگھ نے فلموں میں بھی نغمے گائے لیکن بھارت میں انہیں غزل گائیکی کا معمار مانا جاتا ہے جنہوں نے اس فن کو عوام میں مقبول کیا۔

نقاد ان کے فن کو معیاری یا اعلٰی پائے کا نہیں سمجھتے ہیں لیکن نکتہ چینی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انہوں نے غزلوں کو فلمی گیتوں کی طرح عوام تک پہنچایا۔

جگجیت سنگھ پہلے اپنی اہلیہ چترا کے ساتھ مل کر غزلیں گاتے تھے اور ان کے کئی البم کافی مقبول ہوئے۔ لیکن بیٹے کی موت کے بعد چترانے اس پیشہ کو یکسر چھوڑ دیا اور کبھی دوبارہ نہیں گایا۔

گجیت نے لتا منگیشکر کے ساتھ مل کر سجدہ کے نام سے ایک البم بنایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے اوشا منگیشکر کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔

انہوں نے بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر گلزار کے سات بھی کافی کام کیا اور ان کے ٹی وی سیریل مرزا غالب میں انہوں نے کئی غزلیں پیش کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ غالب کی چند غزلوں کو جگجیت سنگھ نے عوام میں دوام بخشا۔ اس سیریل کی بیشتر غزلیں اب بھی لوگوں کی پسندیدہ ہیں۔

انہوں نے جاوید اختر کے ساتھ بھی کام کیا اور سوز کے نام سے ایک البم تیار کیا جو کافی سنا گیا۔

جگجیت سنگھ کو گھوڑوں سے بہت لگاؤ تھا اور گھوڑوں کی ریس کے شوقین تھے۔ ان کے پاس گھوڑے تھے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے بہت سے لوگوں کی مدد بھی لی تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ہفتہ 24 ستمبر 2011

بھارت کے مشہور غزل گو جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ليلاوتی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہسپتال لائے جانے کے بعد ستّر سالہ جگجیت سنگھ کی سرجری کی گئی تاہم ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے ان کے ایک قربت دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انہیں جمعہ کی شام پاکستان کے مشہور غزل گو غلام علی کے ساتھ ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا۔

اس سے پہلے جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا اور جسم میں خون کی گردش میں مسائل کی وجہ سے انہیں اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی وجوہات کی بناء پر انہیں برین ہیمرج ہوا ہوگا۔

جگجیت سنگھ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ليلاوتي ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جم گیا تھا جسے نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا۔

ان کے مطابق، انہیں اگلے اڑتالیس گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2011/10/111010_jagjit_singh_pics_sz.shtml

 

 

Qaid Rota Hoga ! April 12, 2011

Posted by Farzana Naina in Culture, Famous Urdu Poets, Film and Music, Literature, Pakistan, Pakistani Music, Poetry, Urdu, Urdu Poetry.
add a comment

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے

غزل دلکش ترنم میں پڑھی جا رہی تھی۔ سننے والے اپنی نشستوں پر جمے، مختلف طور طریقوں سے نوجوان شاعر کو داد پیش کر کے کسی سوچ میں محو دکھائی دے رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ غزل لب و رخسار کی بجائے پاکستان کے موجودہ حالات پر مبنی تھی۔ جدید تشبیہہ و استعاروں سے لیس اشعار سوچ کی نئی راہوں کے متلاشی تھے۔

یہ مناظر حال ہی میں فیض گھر لاہور کے ایک کشادہ ہال میں منعقد کیے گئے ایک مشاعرے سے ہیں۔

ادبی نشست کے نام سے یہ ماہانا سلسلہ فیض گھر کے بے شمار ادبی اور ثقافتی پراگراموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کے آرٹسٹوں کو اظہار فن کا موقع دینا ہے۔

معروف مصورہ اور فیض گھر کی بورڈ ممبر سلیمہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ثقافتی کام سیاسی و سماجی جمود یا انتہا پسندی کے عالم میں سیاسی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں جب آزادانہ سوچ کو انتہا پسندی اور مذہبی نوعیت کی سختیوں کا پابند کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف بےخوفی سے اپنی سوچ کا برملا اظہار کرنا ہر تخلیقی شخص کی ذمہ داری بن جاتی ہے کیونکہ یہی اصل چیلنج ہے۔

’ہماری تاریخ اور ساری روایات ہم سے چھن گئی ہیں۔ ہم رہ نہیں سکتے۔ ہم سانس نہیں لے سکتے۔‘

پاکستان کے باقی شہروں کی طرح ثقافتی مرکز لاہور بھی پچھلے چند سالوں سے خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں ورلڈ پرفارمنگ آرٹس فیسٹول کے دوران کلچرل کامپلیکس الحمرا کے باہر ہونے والے تین بم دھماکوں کے باعث یہ سالانہ فیسٹیول جس میں دنیا بھر سے فنکار شرکت کرتے تھے بند کر دیا گیا تھا اور اب تک بند ہے۔

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے

یہی وجہ ہے کہ چوبیس سالہ گلوکار عدنان دھول نے تین سال پہلے ملک کے پیچیدہ حالات سے متاثر ہو کر میوزک کا باقاعدہ آغاز کیا اور آواز و ساز کے ذریعے اپنا پیغام نوجوانوں تک پہنچانا ضروری سمجھا۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے۔

عدنان آج کل بی اے کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گانوں کے بول خود لکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ شاعری کے اصولوں سے ناآشنا ہیں اور اردگرد کے ماحول سے متاثر ہو کر جو جی میں آتا ہے اسے لکھ کر دھن بنا لیتے ہیں۔

ان کے ’اٹھ جوانا‘ کے نام سے مشہور ہونے والے پنجابی گانے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کا خیال انہیں اس روز آیا جب لاہور میں ایک دن میں پانچ خود کش بم دھماکے ہوئے۔

بقول ان کے وہ خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے اگلے گانے کا موضوع قائد اعظم کا بھولا ہوا نظریہ ہے اور اس کا نام ’قائد روتا ہوگا‘ ہے۔

بشکریہ بی بی سی

New Pakistani Movies April 11, 2011

Posted by Farzana Naina in Pakistan, Pakistani, Urdu.
Tags: ,
2 comments

پاکستان میں فلمیں تو گنی چنی بنتی ہیں۔ مگر جہاں ایک طرف ہدایت کار شعیب منصور کی فلم ’بول‘ ریلیز ہو رہی ہے، دوسری طرف چھوٹے پیمانے کی فلم ’گول چکر‘ بھی سکرین پر آنے والی ہے۔

جلد ہی ریلیز ہونی والی فلم ’گول چکر‘ میں ایک کردار کینڈی نامی شخص ہیں۔ کینڈی ان نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے رات دن اسلام آباد کے اہم شاپنگ مرکز جناح سوپر میں گزارتے ہیں۔ اسلام آباد کے نوجوان ان کو ‘جناح بوائز‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جن کا کام ہی گاڑیوں میں بلند آواز میں گانے لگا کر جناح سوپر میں لڑکیوں کو تنگ کرنے کے لیے چکر لگانا ہے۔

فلم گول چکر کی ہدایت کاری اسلام آباد کے دو نوجوان عائشہ لینیا اختر اور شہباز شگری نے کی ہے۔ عائشہ نے حال ہی میں ایک اور آزاد فلم ’سلیکستان‘ میں اداکاری کی تھی، اور اس کے بعد عائشہ کو ایک فلم بنانے کا خیال آیا۔

’جناح بوائز‘ کے بارے میں عائشہ نے کہا کہ یہ اسلام آباد کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ’جن کو ہم جناح بوائز کہتے ہیں، ان کا تعلق میرے اور شہباز کے سماجی طبقے سے نہیں ہے، مگر کینڈی کردار بنانے کا مقصد ان کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ ہمارا مقصد جناح بوائز کا نرم پہلو دکھانا تھا۔‘

اس فلم کی سرمایہ کاری خود عائشہ اور شہباز ہی نے کی ہے اور اس کی لاگت تقریباً دو لاکھ روپے کی تھی۔ جہاں عائشہ نے فلم سلیکستان میں اداکاری کی ہے اور پھر گول چکر فلم بھی بنائی ہے لیکن اس سے قبل، کینڈی کے کردار کے گرد بیس منٹ کی ’سول سرچ‘ نامی فلم فیس بک اور یو ٹیوب پر ریلیز کی تھی۔ اس بیس منٹ دورانیے کی مقبولیت کے بعد عائشہ اور شہباز کو انہی کرداروں پر مبنی ایک لمبے دورانیے کی فلم بنانے کا حوصلہ ملا ۔

چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے ۔۔۔ حسن زیدی۔

فلم بناتے وقت عائشہ اور شہباز نے اس کے ریلیز کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں تھا۔ ’ہم اس کو فیس بک اور یوٹیوب پر ریلیز کر ہی نہیں سکتے۔ اس کا دورانیہ پینتالیس منٹ سے ایک گھنٹے کا ہو سکتا ہے۔ تو ہم نے لوگوں سے نجی محفلوں میں نمائش کے لئے اور ڈی وی ڈی کے تقسیم کرنے والوں سے بات کر لی ہے۔‘

چند ماہ پہلے جب ’سلیکستان‘ کو پاکستانی سینسر بورڈ نے نازیبا زبان کے باعث پاس نہیں کیا، تو اس کے ہدایت کار حماد خان نے فلم کو نجی محفلوں میں دکھانا شروع کیا، انٹرنیٹ پر ریلیز کیا اور فلمی میلوں میں نمائش کی۔

فلم نقاد، ہدایت کار اور کراچی فلم فیسٹول کے سربراہ حسن زیدی نے کہا کہ شروع میں ایسا جذبہ تو اچھا ہوتا ہے۔’جب ہم نے اپنی پہلی فلم بنائی تھی تو یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا آگے کیا کرنا ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔شروع میں یہ اچھی چیز ہوتی ہے کہ لوگوں کہ پاس اتنا جذبہ ہے۔‘

حسن زیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے۔

دوسری جانب، سال دو ہزار سات کی مقبول فلم ’خدا کے لئے‘ کے ہدایت کار شعیب منصور بھی جلد اپنی نئی فلم ’بول‘ ریلیز کر رہے ہیں۔ فلم نقاد اور ہدایت کار عمر خان نے اس کے بارے میں کہا کہ ’سلیکستان‘، ’گول چکر‘، ’بول‘ اور انکی اپنی بنائی ہوئی ڈراؤنی فلم ’ذبح خانہ‘ کے شائقین مختلف ہیں۔

حسن زیدی کا کہنا ہے کہ ’خدا کے لئے‘ کے بعد، شائقین میں ’بول‘ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔ ’بول کے پیچھے ایک بہت بڑا میڈیا ہاؤس اس کی مشہوری کرے گا، جو اس کے پرڈیوسر بھی ہیں اور خدا کے لئے کی وجہ سے شعیب منصور کا کافی نام ہے، اور امید ہے کہ لوگ اس کو دیکھنے ضرور جائیں گے۔‘

ایک بات تو طے ہے۔ پاکستان میں فلمی صنعت کا ماتم بہت ہوا ہے، لیکن گول چکر اور بول جیسی فلموں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فلم بنانے کا جذبہ ابھی مرا نہیں ہے۔

بشکریہ بی بی سی


Women – عورت December 8, 2010

Posted by Farzana Naina in Facts, Feelings, Random.
1 comment so far

عورت

تصویر کائنات میں عورت کے ہی دم قدم سے رنگ بھرا ہوا ہے ‘ اس لئے تو کہا گیا ہے کہ ” وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ” مگر یہ کون سی ذات با برکات ہے جس کے وجود نے رویۓ زمین پر ایک رومان پرور ‘ سحر انگیز اور دلکش سا تہلکہ مچا رکھا ہے – عقل آج تک بھی حیران ہے کہ اس کے وجود میں ایسا کیسا سحر ہے کہ جس نے صنف نازک ہونے اور مرد کی ہی پسلی سے بنائی جانے کے باوجود آج کس طرح سے مرد کے دل و دماغ پر حکمرانی کرنے کے قابل ہو گئی ہے – وہ کچھ اس طرح سے مرد کے حواسوں پر چھا سی گئی ہے کہ وہ بدحواس ہو کر چلّا اٹھا کہ ” عورت دنیا کی خوبصورتی ہے ‘ عورت زمین کا دل ہے ‘ عورت محبت کی روح ہے ‘ عورت ایک سحر انگیز نشہ ہے جو ہلکے ہلکے چڑھتا ہوا مرد کے حواسوں پر قابض ہو جاتا ہے ” دوسری طرف کوئی کوئی اس کے بارے میں کہنے لگتا ہے کہ ‘ عورت ایک رات ہے ‘ عورت ایک مسہری ہے ‘ عورت ایک کوٹھا ہے ‘ عورت ایک ڈاک بنگلہ ہے ‘ عورت ایک ہوٹل کا کمرہ ہے اور عورت چاندی کا سکّہ ہے وغیرہ وغیرہ ” بہرحال جس طرح سے مرد نے عورت کو محسوس کیا اسی طرح سے اس کو استمعال بھی کیا اور اس کے بارے میں اپنا اپنا خیال ظاھر بھی کیا ہے- میں سمجھتا ہوں کے عورت نیلے آسمان کی طرح بیکراں ‘ چودھویں رات کے چند کی طرح مدہوش کن ‘ ہلکا ہلکا چڑھتے ہوئے نشہ کی طرح سرور انگیز ‘ پھولوں پر منڈلاتی تتلیوں کی طرح خوبصورت ‘کوکتی کویل کی طرح نغمہ ریز مسجد میں جلتے ہوئے چراغ کی لو کی طرح مقدس چاندنی سے تراشا ہوا ایک نازک سا مجسسمہ ہے جو زمین کا یکتا جمال ہے اور جو کاینات کا واحد حسن ہے – مرد جب عورت کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کو اپنی محبوبہ کے چہرہ میں چودھویں کا چند جگمگاتا نظر آتا ہے ‘ اسکے ہونٹ گلاب کی پنکھڑیاں معلوم ہوتے ہیں ‘اسکی کمر میں ناری کی بیل کی لچک سی محسوس ہوتی ہے ‘ اسکی آواز میں کوئل کی کوک اور بلبل کا نغمہ سنی دینے لگتا ہے – سچ پوچھو تو سارا نظام شمسی عورت کے ہی اشاروں پر ناچتا ہوا نظر آنے لگتا ہے – یہی وجہ ہے کہ انسان بڑا ہو یا چھوٹا ‘ بادشاہ ہو یا فقیر’ امیر ہو یا غریب رات ہوتے ہی عورت کی طرف کھنچ جاتا ہے یوں لگتا ہے جیسے دنیا صرف عورت کی کشش سے ہی قایم و دایم ہے – مرد جب دن بھر کی محنت شاقہ سے تھکا ماندہ گھر کی طرف لوٹتا ہے تو عورت کا مقناطیس اسے اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے اورمرد ایک نرم نرم ‘ملائم ‘گداز و چمکیلے جسم کی وادیوں میں گم ہو کر ساری تھکان کو بھول کر سرشار ہو جاتا ہے – اگر ایسا نہیں ہوتا تو مرد کی رات رات نہیں بلکہ بارہ گھنٹوں کا گھٹا ٹوب اندھیرا بن کر رہ جاتی ہے – اس سے ہٹ کر اگر حالات پر نظر ڈالیں تو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ عورت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی ‘ پھول کی پتی بھی ہے اور تلوار کی دھار بھی ‘ صاف گو بھی اور کینہ ساز بھی ‘پیکر رحمت و شفقت بھی اور مجسم انتقام و حسد بھی ‘ ڈرپوک بھی اور بہادر بھی ‘بھولی بحالی بھی اور چالاک بھی ان تمام متضاد کایفیات کے مد نظر مردوں کی ایک بڑی تعداد نے عورت کو سمجھنے میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہے اور عورت کی صحیح فطرت کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے ازدواجی زندگیوں میں غلط فہمیاں بڑھتی جانے لگی ہیں – ہم زندگی کی بنک سے وہی کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم نے جمع کیا ہے – اگر ہم نے پیار نہیں دیا ہے تو پھر پیار کسطرح سے پا سکتے ہیں ؟ اسطرح سے اگر ہم نسوانیت کا احترام نہیں کریں گے تو پھر عورت ہماری مردانگی کا احترام کیسے کریگی ؟ ازدواج میں معاملہ ‘ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے ‘ والا ہوتا ہے – اسی لئے یہ بات اچھی طرح سے ذهن نشین کر لینا چاہیے کہ ‘ عورت نہ تو آقا سے محبت کر سکتی ہے نہ ہی غلام سے وہ تو صرف ایک ہمسفر سے ہی محبت کر سکتی ہے ‘ جو ہر معاملے میں اس کے شانہ بہ شانہ چل سکے ‘ یہی حال مرد کا بھی ہے ‘ وہ چاہتا ہے کہ عورت خلوت میں اس کے شانہ بہ شانہ چلے غیر ضروری قسم کی شرم و حیا کے چکر میں نہ پڑے – عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر گھرانوں کے مرد طوائفوں کے کوٹھوں کے چکرلگانے لگتے ہیں – اسکی صرف ایک ہی وجہ ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو اپنے گھر میں وہ کچھ نہیں مل پاتا جو وہ چاہتے ہیں – دوسری طرف یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتیں شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی جب انھیں جنسیاتی طور پر وہ کچھ نہیں ملتا جو ان کے جسموں کی ضرورت کو پورا کر سکے یا انھیں پوری طرح مطمئنکر سکے تو وہ کسی دوسرے مرد سے تعلق استوار کر لیتی ہیں – اس لئے ایسے مسئلوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کا تدارک کر لینا ہی عقلمندی ہے – ان کا تدارک صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مرد اور عورتدونوں ہی ایک دوسرے کو کس طرح خوش کیا جا سکتا ہے ان باتوں کا علم حاصل کریں – سماجی’ ذہنی’ خدماتی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے کو خوش کرنے کے گر تو انسان کیسے تیسے سیکھ ہی لیتا ہے کیوں کہ ان پر کسی قسم کے پہرے نہیں لگے ہوتے ہیں مگر مسلہ تو جنسیاتی تعلیمات کا ہے ‘ اس معاملے میں مرد و عورتدونوں ہی اندھیرے میں بھٹکنے لگتے ہیں – جنسی طور پر ایک دوسرے کو خوش اور مطمئن کرنے کے گر ہرمرد و عورت کو سیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس پر ہی ازدواج کی صحت مند بقا کا دارومدار ہے – یقیناً ان ساری باتوں کا پوری طرح سے علم ہونا قدرے مشکل ہے پر ناممکن نہیں ‘ مگر علم ہونے پر جو منزل ملتی ہے وہ اتنی حسین ہوتی ہے کہ اس کے لئے جان کی بازی بھی ہنستے کھلتے لگائی جا سکتی ہے – کوئی چیز پیسوں میں بھی مہنگی ہے اور کوئی چیز لہوں روپئے میں بھی سستی ہوتی ہے ‘ سوال قیمت کا نہیں بلکہ مطلوبہ شے کی افادیت کا ہے – جنسی علم کی افادیت کے لہٰذ سے اتنی ہی اہمیت ہے کہ اس کے لئے کسی بھیقسم کی مشکل کا سامنا کرنا پڑے برداشت کرنا ہو گا کیوں کہ اس سے جو فائدے ہونگے وہ ازدواجی زندگیکو تقدس سے روشناس کروایں گے – آسمانی صحیفوں میں عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جس میںایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے – یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کھیتی کی فصل کا محض ہل اور ہل چلانے والے کی طاقت پر ہی انحصار نہیں ہوتا بلکہ ہل چلانے کی مہارت کے ساتھ ساتھ زمین کی سخت ‘ موسموں کی تبدیلی’ اور ہواؤں کی بدلتی کیفیت کی پہچان بھی ضروری ہوتی ہے-۔

بشکریہ ” آپ کا مددگار ”۔

Saleh and the Samood December 3, 2010

Posted by Farzana Naina in Religion.
add a comment

Saleh and the Samood People

~~~~~~~~~~~~~~~~~

God had sent His punishment to the Aads who had disobeyed Hoodh.

Those who survived were frightened for some time but soon forgot all about Hoodh’s preaching and began to worship their stone gods once again. These people were called Samood. Like the Aads, they too were fair, tall and handsome.

They carved out magnificent houses from mountains and made beautiful palaces on the plains. But they were ungrateful people and did not obey God.

God sent them a prophet from amongst themselves. His name was Saleh. Saleh asked the Samoods to be good and believe in the one and only God. The poor amongst them listened to him but the rich did not.They were full of of pride and looked down upon the poor. They said, ‘Saleh, you were like us, what happened to you that you stop us from worshipping our gods?’ Saleh replied, ‘I am the prophet of God. He has sent me to tell you the truth. He created you from this earth and allows you to live on it. He has given you gardens, springs, meadows, delicious soft dates, and beautiful houses. Seek his forgiveness. In return, I don’t want anything from you. All I ask of you is to believe in the one and only God who has given you everything.

But the rich Samoods were annoyed and said, ‘All right, ask your God to show us a miracle, then we shall believe in Him.’ They asked Saleh to request his God to make a camel emerge from a mountain in front of them.

asked for. This camel is holy and sent by God at your request, to convince you of His presence. It is God’s will that she should graze in the fields and drink water one day and you can draw water the next day, turn by turn. None of you can the turn of the camel and her child.’ He also told them that if they bothered the camel, they would be punished by God.

The Samoods were, at first, both impressed and frightened. They had seen the miracle happen and believed that the camel, which had emerged from the mountain, was truly sent by God as that was what they had asked for. But, soon they began to grudge the camel and her child, their freedom to eat and drink undisturbed every alternate day. They did not want to share their water with her. So they made a plan, and one day some of them killed the camel.

When Saleh heard of this he was very sad. He told the Samoods, ‘You have committed a sin by disobeying God. You have made God very angry and He will soon punish you.’

And God punished the Samoods severely with a frightful shrieking sound, thunder, and lightening. The Samoods, who had not listened to Saleh, fell down on their faces on the ground when they heard the dreadful sound. In the morning, they were all found dead in their strong and beautiful houses which they had built for their protection.

Only the people who had believed in God and had listened to Saleh were saved.

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~

Mian Mohammed Bakhsh – میاں محمد بخش November 2, 2010

Posted by Farzana Naina in Poetry.
1 comment so far

میاں محمد بخش پنجاب میں عربی ، فارسی روایت کے آخری معروف ترین صوفی شاعر تھے۔

آپ کی ولادت 1824ء میں میرپور کے علاقہ کھڑی شریف میں ہوئی۔ آپ نے اس علاقے کی مشہور دینی درسگاہ سمر شریف میں تعلیم حاصل کی ۔ حافظ غلام حسین سے علم حدیث پڑھا۔ حافظ ناصر سے دینی علوم کے علاوہ شعر و ادب کے رموز سے بھی آشنائی حاصل کی۔ جلد ہی عربی اور فارسی زبانوں میں عبور حاصل کر لیا۔ اس کے بعد پنجاب بھر کا سفر کیا اور علماء اور مشائخ سے ملاقاتیں کیں ۔واپس آکر ضلع میرپور ہی میں سائیں غلام محمد کے مرید ہوئے۔ آپ کی دانست میں مرشد کامل کا اہم وصف محض صاحب کرامات ہونا ہی نہیں، بلکہ حسن واخلاق کی بلندی کو چھونا بھی ہے۔

میاں محمد بخش حاکمانِ وقت سے دور دور رہتے تھے۔ اکابرین کی سیرت نے آپ کی زندگی میں روحانی انقلاب برپا کر دیا تھا۔ آپ موسیقی کے دقیق رموز پر بھی ماہرانہ نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ کی شاعری میں موسیقیت بدرجہ اتم رچی ہوئی ہے۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ آپ نے جس عہد میں آنکھ کھولی، وہ بڑا پر آشوب دور تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی، انگریزوں کا کشمیر کو سکھ مہاراجہ کے حوالے کرنا ، سکھوں کے پنجاب بھر میں مظالم انہی کے دور میں ہوئے۔

آپ کی شاعری ، فکر اور مطالعے کے ڈانڈے قرآن و حدیث، فارسی شعراء عطار ، رومی ، جامی کے علاوہ منصور حلاج اور خواجہ حافظ سے لے کر پنجابی شعراء تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری میں تصوف ہندی اور ایرانی روایت کو جذب کر کے ذاتی اور اجتماعی سوز و گداز کے فیضان سے فکر انگیز اور دلکش پیرائے میں ڈھالا ہے۔ ابن عربی اور مولانا روم کی صوفیانہ روایت ، پنجابی شاعری کی روایت کے اثر سے دو آتشہ ہوگئی ہے۔ آپ کی تخلیق کردہ مشہور داستان ”سفر عشق“ جو کہ قصہ سیف الملوک کے نام سے معروف ہے آپ ہی کے افکار و تخیلات کا پر تو نظر آتی ہے۔ آپ کی شاعری کی تین خصوصیات ہیں، سوزوگداز، پندونصائح کے شائبے کے بغیر لطیف پیرا یہٴ اظہار اورتمثیلی انداز۔

ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود کی آپ ایسی تعبیر کے حامی ہیں، جو ذرّے ذرّے میں جمالِ حقیقی سے روشناس کرواتی ہے۔ انسان کو تعصبات اور فخر وغرور سے بچاتی ہے۔ اسی رویے نے آپ کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی پیدا کی ہے اور فکر کو وسیع اور ہمہ گیر بتایا ہے۔ آپ نے خارجی احوال و کوائف کی ترجمانی کے علاوہ من کی دنیا کی سیاحت بھی کی ہے۔

خارجی اور داخلی زندگی آپ کی شاعری میں الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط نظر آتی ہیں۔ آپ کے مطابق جیتے جی مرجانا اور مر کر بھی جیتے رہنا ہی فقر ہے۔ آپ اپنی شاعری میں عمل پر بہت زور دیتے ہیں، کیونکہ عمل کے بغیر کوئی بھی کام پورا نہیں ہوتا۔ آپ کی تصنیف ”قصہ سیف الملوک “ کی ساری کی ساری فضا عمل پر ہی قائم کی گئی ہے۔

مصنف: نا معلوم

Abdur Rehman Chughtai – عبدالرحمن چغتایٔ October 12, 2010

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags:
3 comments

M.A.Rahman Chughtai 1937

Abdur Rehman Chughtai (1899–1975) was a painter and intellectual from Pakistan who was best known for his “Chughtai” style of art, as well has his designs of postage stamps. He was awarded Pakistan’s Hilal-i-Imtiaz in 1960, and the President of West Germany awarded him a Gold Medal in 1964 for his accomplishments.

He died in Lahore on January 17, 1975

He was considered one of the most famous representatives of  Pakistan and Chughtai’s paintings were gifted to visiting heads of states. Allama Iqbal, Pablo Picasso, Queen Elizabeth II were amongst his admirers. An estimated 25 million people saw his Wembley show in 1924.

In 1927, Chughtai published Muraqqa, his first major work, which comprised a series of illustrations he made for new edition of the thought-heavy and highly imaginative verses of Ghalib, 19th century “poet’s poet” of Urdu and Persian.

His works are displayed at the British Museum, the Victoria and Albert Museum, the Peace Palace (in The Hague), United Nations Headquarters, New York, the Kennedy Memorial in Boston, the US State Department (in Washington, D.C.), President’s House Bonn, Nizam of Hyderabad’s Palace, Queen Juliana’s Palace in the Netherlands, Emperor’s Palace Bangkok, President House Islamabad, Governors’ Houses in Lahore and Karachi, and the National Art Gallery, Islamabad.

Among his famous works are the logos of Pakistan Television and Radio Pakistan and his painting of Anarkali for the cover of a 1992 drama. Additionally, one of the most successful UNICEF cards features a Chughtai.

Artist and gallery owner Salima Hashmi deems Chughtai one of South Asia’s foremost painters. “He was part of the movement that started in the early part of the 20th century to establish an identity indigenous to the subcontinent,” she said. “He rejected the hegemony of the British Colonial aesthetic.”

United Nations Organization art correspondent Jacob-Baal Teshuva wrote that Chughtai’s paintings are the most set released in 1948.

Chughtai ki Tehreer

 

 

 

Mohsin Ehsaan – محسن احسان September 24, 2010

Posted by Farzana Naina in Mohsin Ehsaan, Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags:
add a comment

ممتاز شاعر و ادیب محسن احسان انتقال فرماگئے


السلام و علیکم

اردو کے تمام اہل ادب کو نہایت افسوس کے ساتھ مطلع کر رہی ہوں کہ بزرگ شاعر، ادیب و دانشور محترم محسن احسان رضائے الہی سے انتقال فرما گئے ہیں۔

”انا للہ و انا الیہ راجعون”

مرحوم کافی عرصے سے اپنی علالت کے سبب برطانیہ میں علاج کے لیۓ مقیم تھے، محسن احسان صاحب کی ادبی خدمات دنیا بھر کے اردودان ادبی حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

فیس بک پر موجود تمام اہل ادب کی جانب سے اظہار تعزیت ہے اس دعا کے ہمراہ کہ پروردگار مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

***

محسن احسان کی غزل دامنِ دل کھینچتی ہے اور جملہ مثبت روایات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کی عکاسی کرتی ہے،

یہ غزل تغزل سے بھی آشنا ہے اور گرد و ہیش کی زندگی کے حساس پہلوؤں سے بھی اکتسابِ جمال کرتی ہے،

اس کا رشتہ اپنی روایت، اپنی تاریخ، اپنی زمین سے بھی استوار ہے اور ان لمحاتی تجربوں سے بھی جنہیں انسانوں نے عہد بہ عہد اپنی زندگیوں میں محسوس کیا ۔

تابش دہلوی

***

جہاں جہاں یہ زمیں خشک قحطِ آب سے ہے

مرے لہو کی یہ بوندیں وہاں وہاں لے جا

*

چراغ اپنے رویوں کو بدل دیں

ہوا اس وقت طوفانی بہت ہے

*

اتنی کوتاہی تو ہوتی نہیں نادان سے بھی

مجھ کو خوف آتا ہے محسن ترے احسان سے بھی

*

ہم دعاگویۓ چمن ہم ہیں ثنا خوانِ بہار

شاد و آباد رہیں سارے عزیزانِ بہار

*

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گیۓ

قبروں سے پوچھتا ہوں مرے یار کیا ہویۓ

محسن احسان کی کتابیں

ناتمام

ناگریز

ناشنیدہ

نارسیدہ

جمل اکمل

مٹی کی مہکار

پھول پھول چہرے

رباعیاتِ خوشحال خان خٹک

رحمان با با

سخن سخن مہتاب

*

برونِ لفظ کہاں ہے تجلیٔ معنی

ہے حرف حرف ستارہ سخن سخن مہتاب

فرزانہ خان نیناں ۔ نوٹنگھم

This slideshow requires JavaScript.

پاکستان کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم علالت کے بعد لندن میں انتقال کرگئے، اُن کی عمر ستتر برس تھی۔

انھیں لندن میں ہی تین ہفتے قبل کینسر تشخیص ہوا تھا۔

محسن احسان پشاور کے اسلامیہ کالج میں شعبہ انگریزی کے استاد اور سربراہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لندن میں مقیم اپنے بچوں سے اکثر ملنے آتے رہتے تھے۔

ان کی میت تدفین کے لیے پاکستان لے جائی جارہی ہے، جہاں پشاور میں انھیں سپرد خاک کیا جائےگا۔

محسن احسان کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ کے اُس قبیل سے تھا جنھوں نے صوبہ سرحد میں اردو ادب کی آبیاری میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اس کارواں میں فارغ بخاری، رضا ہمدانی، خاطر غزنوی، شوکت واسطی اور احمد فراز جیسی قد آور شخصیات شامل ہیں۔ محسن احسان کا ایک مصرح ہے،

ایک ایک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے

ہائے کیا لوگ میرے حلقۂ احباب میں تھے

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سےمٹ گئے

قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے

ان کی شاعری کے تین مجموعے ’ناشنید‘ ، ’ناتمام‘ اور ’ناگزیر‘ عوامی سطح پر بہت مقبول ہیں۔ اُن کی غزل میں بنیادی حوالہ تو محبت ہی تھا مگر غم دوراں، سماجی ناہمواریاں اور ملک کے سیاسی حالات کی جھلک بھی اُن کی شاعری میں نظر آتی تھی۔

امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دیکر

سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

***

گلزار کے رکھوالوں نے خشبوئیں چرا لیں

باقی جو بچا ہے وہ خس و خاک بچالیں

بشکریہ بی بی سی


Dr.Wazir Agha – وزیر آغا September 23, 2010

Posted by Farzana Naina in Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags:
1 comment so far

Dr.Wazir Agha's pencil Sketch

کباب کا ایک لذیذ ٹکڑا زبان پر رکھتے ہی یا صرف بالغوں کے لئے شائع ہونے والے کسی رسالے میں نیم برہنہ تصویر دیکھتے ہی جو لذت محسوس ہوتی ہے وہ اُس مسرت سے کسطرح مختلف ہے جو مثلاً ایک معصوم بچے کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر یا دریا کنارے ایک درخت کے پتوں سے بادِ صبا کی اٹھکیلیاں دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔

لذت اور مسرت کے موازنے کی یہ بحث سن پچاس کے عشرے میں اُردو خواں طبقے کے لئے ایک بالکل انوکھی بات تھی۔ اور اس بحث کو شروع کرنے والا شخص کوئی بوڑھا فلسفی نہیں بلکہ سرگودھے کا ایک نوجوان وزیر آغا تھا جو اکنامکس میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب فارغ اوقات میں اُردو شاعری کا گہرا مطالعہ کر رہا تھا۔

وزیر آغا کا سات ستمبر کی شب لاہور میں اٹھاسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انھیں اگلے دن ضلع سرگودھا میں انکے آبائی گاؤں وزیر کوٹ میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

’’چلی کب ہوا، کب مٹا نقش پا

کب گری ریت کی وہ ردا

جس میں چھپتے ہوئے تونے مجھ سے کہا

: آگے بڑھ ، آگے بڑھتا ہی جا مڑ کے تکنے کا اب فائدہ؟

کوئی چہرہ ، کوئی چاپ ، ماضی کی کوئی صدا،

کچھ نہیں اب اے گلّے کے تنہا محافظ

ترا اب محافظ خدا

ڈاکٹر وزیر آغا کی ایک نظم

اُردو کے بزرگ قلم کار مولانا صلاح الدین احمد جو اپنے ادبی پرچے کے ذریعے ہندوستان بھر کے نوجوان ادیبوں کی تربیت کر رہے تھے اور کرشن چند، راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور جیسے نثر نگاروں کے ساتھ ساتھ ن م راشد، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے شعرا کو بھی منظرِ عام پر لا چکے تھے، اُن کی نگاہِ جوہر شناس جب وزیر آغا پر پڑی تو فوراً انھیں اپنے سایہء عاطفت میں لے لیا۔ اقتصادیات، نفسیات اور فلسفے کے جو مضامین کبھی اُردو میں زیرِ بحث نہیں آئے تھے، انکے لئے اپنے پرچے کے صفحات کھول دیئے۔

وزیر آغا نے مسرت کی نوعیت، مسرت کی اقسام اور حصولِ مسرت کے ذرائع پر جو کچھ لکھا مولانا نے اپنے تعارفی نوٹ کے ساتھ اسے ایک کتابی شکل میں شائع بھی کرایا اور یوں نوجوان وزیر آغا کی کتاب” مسرت کی تلاشٰ” منظرِ عام پر آئی۔

بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔

لیکن جلد ہی معلوم ہوگیا کہ یہ تو نوجوان قلم کار کی جولانیء طبع کا صرف ایک پہلو تھا۔ اُن کا اصل جوہر اُردو شاعری کے اُن تجزیاتی مضامین میں کھلا جو ”ایک مثالٰ ” کے عنوان سے ماہنامہ ادبی دنیا میں سلسلہ وار شائع ہوئے۔

1960 میں مولانا صلاح الدین احمد نے انھیں اپنے جریدے کی مجلسِ ادارت میں شامل کر لیا اور وہ تین برس تک ایک ساتھی مدیر کے طور پر کام کرتے رہے۔

سن پچاس کے عشرے میں انھوں نے مسرت کے موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے دنیا بھر کے مزاحیہ ادب کا مطالعہ بھی کیا اور انھی دنوں اُن کا تحقیقی کارنامہ اردو ادب میں طنز و مزاح سامنے آیا جسے 1956 میں پنجاب یونیورسٹی نے ایک اوریجنل تحقیقی کام قرار دیتے ہوئے وزیر آغا کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کی۔

اُردو کے بزرگ قلم کار مولانا صلاح الدین احمد جو اپنے ادبی پرچے کے ذریعے ہندوستان بھر کے نوجوان ادیبوں کی تربیت کر رہے تھے اور کرشن چند، راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور جیسے نثر نگاروں کے ساتھ ساتھ ن م راشد، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے شعرا کو بھی منظرِ عام پر لا چکے تھے، اُن کی نگاہِ جوہر شناس جب وزیر آغا پر پڑی تو فوراً انھیں اپنے سایہء عاطفت میں لے لیا

نقاد،انشائیہ نگار اور شاعر وزیر آغا، خود ان کے فن پر کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں

اُردو ادب کی تاریخ میں ڈاکٹر وزیر آغا کا نام دو حیثیتوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ایک تو انھوں نے اردو ادب میں انشائیے کی صِنف کو فروغ دینے کےلئے ایک تحریک کی سطح پر کام کیا اور دوسرے انھوں نے اُردو تنقید کو جدید نفسیاتی مباحث سے روشناس کرایا۔

انشائیے کی ترویج میں اُن کے ادبی رسالے اوراق نے انتہائی اہم خدمات سر انجام دیں۔ وزیر آغا نہ صرف خود انشائیہ لکھتے تھے بلکہ نوجوان ادیبوں کو اسکی ترغیب بھی دیتے تھے اور اُن کے معیاری انشائیے اپنے رسالے میں باقاعدگی سے شائع کرتے تھے۔ بہت سے ادیبوں کو یہ شکوہ رہا کہ وزیر آغا نے انکی تحریر کو بطور انشائیہ قبول نہیں کیا بلکہ مزاحیہ مضمون کا عنوان دیکر شائع کیا۔

اس سلسلے میں وزیر آغا کا موقف انتہائی واضح تھا۔ وہ ہر ہلکی پھلکی یا مزاحیہ تحریر کو انشائیہ قرار دینے پر تیار نہ تھے کیونکہ اُن کے بقول انشائیے میں ایک خاص طرح کی  ذہانت کی چمک ہونا ضروری تھا۔

اردو تنقید میں ژُونگ کے اجتماعی لاشعور اور دیو مالا کی نئی تشریح و توضیح کا چلن وزیر آغا کی ہی بدولت ممکن ہوا۔ اُن کی تصنیفات کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے جن میں سے پندرہ کتابیں ایسی ہیں جن کا تعلق محض شعر و شاعری سے ہے۔ اُن کی کچھ کتابوں میں

نظمِ جدید کی کروٹیں  1963

اردو شاعری کا مزاج  1965

تخلیقی عمل 1970

انشائیے کے خدوخال  1990

اور غالب کا ذوقِ تماشہ  1997

انتہائی اہم ہیں۔

اپنے مداحوں کے لئے وزیر آغا نے اپنے حالاتِ زندگی بھی ایک کتاب کی صورت میں محفوظ کر دیئے ہیں سوانح عمری کا نام ہے” شام کی منڈیر سے”۔

جسطرح مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے وقت کے بہت سے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی سرپرستی کی اور انھیں قعرِ گمنامی سے نکال کر شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں لا کھڑا کیا، اسی طرح اُن کے شاگردِ رشید وزیر آغا نے بھی اپنے رسالے اوراق کے ذریعے بہت سے نوجوانوں کے ذؤق تحریر کی آبیاری کی۔ وہ کافی عرصے تک گورنمٹ کالج سرگودھا میں اعزازی مدرّس کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔

بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔

دوسرا مقالہ بھاگلپور یونیورسٹی میں پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی انشائیہ نگاری پر لکھا گیا اور تیسرا رانچی یونیورسٹی میں وہاب اشرفی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی تنقید کے موضوع پر لکھا گیا جن پر پی ایچ ڈی ایوارڈ ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ جے پور یونیورسٹی میں وزیر آغا کی تنقید نگاری پر ایم فل اور پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہے۔

پاکستان میں بھی وزیر آغا کے فن پر 14کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

کہنے کو چند گام تھا یہ عرصۂحیات

لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا ہمیں

اب تو آرام کریں سوچتی انکھیں میری

رات کا آخری تارا ہے بھی جانے والا

بشکریہ عارف وقار ، بی بی سی

Water Hyacinth June 30, 2010

Posted by Farzana Naina in Flowers, Sindh, Water Hyacinth.
Tags: ,
1 comment so far

sparkle.gif

I bought my first Water hyacinth yesterday, Looking for it since long and suddenly I found it in Floraland Nottingham :) .

With vibrant green color leaves, a fragrant and beautiful purple flower, and the ability to soak up excess pond nutrients faster than a frog hops off a hot rock in summer – the Water Hyacinth is a great plant to add to your water garden or pond.

Here are just some of it’s benefits:  They float, so you don’t have to worry about planting them or dividing them when they get too big (they divide automatically).


Hyacinths multiply like crazy, so you may only have to buy 4 or 5 and by the end of the summer, you will be giving them away to your friends.

They get a gorgeous purple flower when they bloom, that has a sweet smell to it as it sticks 4-5 inches above the top of the flower.

And most notable about the Hyacinth is it’s fantastic ability to soak up excess nutrients in your pond, as well as act as a ‘floating filter’.  It’s deep floating roots serve as natural filter brushes, trapping suspended silt and other debris in the water – just like an external filter brush would do.  Just shake your Hyacinth sometime, and notice all the silt come out and cloud the water.

And as far as absorbing algae causing nutrients, the Water Hyacinth is hands down the very best pond plant to help get your nutrient levels under control in your pond.

The species of water hyacinth comprise the genus Eichhornia. Water hyacinth are a free-floating perennial aquatic plant native to tropical and sub-tropical South America. With broad, thick, glossy, ovate leaves, water hyacinth may rise above the surface of the water as much as 1 meter in height. The leaves are 10–20 cm across, and float above the water surface. They have long, spongy and bulbous stalks. The feathery, freely hanging roots are purple-black. An erect stalk supports a single spike of 8-15 conspicuously attractive flowers, mostly lavender to pink in colour with six petals. When not in bloom, water hyacinth may be mistaken for frog’s-bit (Limnobium spongia).

One of the fastest growing plants known, water hyacinth reproduces primarily by way of runners or stolons, which eventually form daughter plants. It also produces large quantities of seeds, and these are viable up to thirty years. The common water hyacinth (Eichhornia crassipes) are vigorous growers known to double their population in two weeks.

In Assamese they are known as Meteka. In Sinhala they are known as Japan Jabara (ජපන් ජබර) due to their use in World War II to fool Japanese pilots into thinking lakes were fields usable to land their aircraft, leading to crashes. In Burmese they are known as Baydar.

In Southern Pakistan, they are the Provincial flower of Sindh.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 56 other followers