rWelcome-خوش آمدید October 30, 2006
Posted by Farzana Naina in Asian Bridal Makeup, Asian Photographer, Pakistani Poetess, Urdu.Tags: Welcome
7 comments
میری شاعری میرے بچپن
اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں۔۔۔
وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے
، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا
جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔
گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ
بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔
۔۔
گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔
پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں،
مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ
گئے ہیں۔۔۔
میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض،
شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں
پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔
رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔
لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں
سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔
۔۔
نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک،
نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔
۔
پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی
تھرک پیدا کردیتےہیں
۔۔۔
شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔
مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔Hymns شیلنگ کی
سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔
۔۔
کریم کافی،
مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔
۔۔
سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا گھر،مشرق کے سورج چاچا اور
چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔
وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔
۔۔
جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔
۔۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی
تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر
کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.
شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی
ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری
ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے،
ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔
سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،
معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔
شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،
جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔
شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔
۔۔
صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس
کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔
شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔
۔
کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔
۔
شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے
نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔
ا
ان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت،
آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔
۔۔
ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔
۔۔
شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے
، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے
یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت
بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔
یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔
یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔
۔۔
شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ،
خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید شیور لیٹ کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔
یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں
،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرارطمانیت کے ساتھ چھن چھن کر
دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے
، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں،
بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔
شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔
شاعری کے رموز واوقاف ، اوزان، بحور وغیرہ پر مہارت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں ،استاد شعرا کی برابری میرا شیوہ نہیں، میری تشبیہات اور استعارے کسی سے مستعار نہیں لئے گئے، مجھےاپنی مرضی کےالفاظ کا
تانا بانا بننا اچھا لگتا ہے، استاد شعراءنےکمال محبت سےمجھےسمجھایا کہ بی بی اپنے ہنر کو تراش کر ہیرا بناؤ ،ابھی جن پابندیوں پر چیخ پڑتی ہو، کل یہی کام آئیں گی۔ ۔ ۔
سو میں ایک سعادت مند بچی کی طرح پابندیوں والی کڑوی گولیاں نگلنےکی کوشش کر رہی ہوں
،کوہ نور ہیرے
کی جستجو کب تک رہےگی ،کچھ خبر نہیں۔ ۔ ۔ !۔ ۔ ۔ ۔
میں اس کتاب اور کلام کے لئے ہر اس شخص کی ممنون ہوں جس نےایک چھوٹا سا بھی مشورے کا موتی میری جھولی کی نذر کیا۔۔۔
یہی شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سےبادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال کر
، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر چل رہی ہوں، دیکھیں انجام کون سی منزل تک لےجاتا ہے۔
فرزانہ نیناں
http://naghmaosher.mypodcast.com/
مندرجہ بالا لنک پر آپ میرا ریڈیوپروگرام اور میری شاعری سن سکتے ہیں ۔
http://www.farzanaakhtar.com/
http://www.akhtarkhan.com/
ISLAMABAD:
Mushaira held in honour of expat poet
(Reporter of Dawn news paper)
• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.
• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.
• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).
• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).
Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.
She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.
Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.
Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.
The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Jazib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.
In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.
Sketch by Rafael November 3, 2009
Posted by Farzana Naina in Art.Tags: Rafael
3 comments
رافائیل کے خاکے کی نیلامی
’ہیڈ آف اے میوز‘ نامی یہ خاکہ 1508 اور 1511 کے درمیان کے عرصے میں بنایا گیا تھا۔ پاپائے روم جولیئس دوم نے ویٹیکن کے لیے چار ’فریسکو‘ تصاویر کا سلسلہ بنوایا تھا اور یہ خاکہ اس میں سے ایک فریسکو کی تیاری کے لیے بنایا گیا تھا۔
اس خاکے کی نیلامی آٹھ دسمبر کو آرٹ کے مشہور نیلام گھر ’کرِسٹیز‘ میں ہوگی۔
’کرسِٹیز‘ کے ایک ماہر بینجامن پیرونے کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے اہم تصویر ہے کہ یہ نہ صرف بذات خود بہترین فن کا مظاہرہ ہے بلکہ اس کا رافایئل کے ایک یادگار منصوبے سے بھی تعلق ہے۔
رافائیل یعنی رافائیلو سانزیو کو پاپائے روم نے اس منصوبے کے لیے پندرہ سو آٹھ میں فلورنس سے روم بلالیا تھا۔ رافائیل فریسکو تیار کرنے کے عمل میں تفصیلی تیاریاں کیا کرتے تھے۔ اس نوعیت کے خاکے بنا کر ان کی لائنوں کو باریک سراخوں اور نیلے چاک کے ذریعے دیوار پر ٹریس کیا جاتا تھا۔
بشکریہ۔بی بی سی
![]()
Leonardo da Vinci (1452 -1519) November 2, 2009
Posted by Farzana Naina in Art.Tags: Leonardo da Vinci, Paintings
add a comment

- Leonardo da Vinci
Da Vinci was one of the great creative minds of the Italian Renaissance, hugely influential as an artist and sculptor but also immensely talented as an engineer, scientist and inventor.
Leonardo da Vinci was born on 15 April 1452 near the Tuscan town of Vinci, the illegitimate son of a local lawyer. He was apprenticed to the sculptor and painter Andrea del Verrocchio in Florence and in 1478 became an independent master. In about 1483, he moved to Milan to work for the ruling Sforza family as an engineer, sculptor, painter and architect. From 1495 to 1497 he produced a mural of ‘The Last Supper’ in the refectory of the Monastery of Santa Maria delle Grazie, Milan.
Da Vinci was in Milan until the city was invaded by the French in 1499 and the Sforza family forced to flee. He may have visited Venice before returning to Florence. During his time in Florence, he painted several portraits, but the only one that survives is the famous ‘Mona Lisa’ (1503-1506).
In 1506, da Vinci returned to Milan, remaining there until 1513. This was followed by three years based in Rome. In 1517, at the invitation of the French king Francis I, Leonardo moved to the Château of Cloux, near Amboise in France, where he died on 2 May 1519.
The fame of Da Vinci’s surviving paintings has meant that he has been regarded primarily as an artist, but the thousands of surviving pages of his notebooks reveal the most eclectic and brilliant of minds. He wrote and drew on subjects including geology, anatomy (which he studied in order to paint the human form more accurately), flight, gravity and optics, often flitting from subject to subject on a single page, and writing in left-handed mirror script. He ‘invented’ the bicycle, airplane, helicopter, and parachute some 500 years ahead of their time.
If all this work had been published in an intelligible form, da Vinci’s place as a pioneering scientist would have been beyond dispute. Yet his true genius was not as a scientist or an artist, but as a combination of the two: an ‘artist-engineer’. His painting was scientific, based on a deep understanding of the workings of the human body and the physics of light and shade. His science was expressed through art, and his drawings and diagrams show what he meant, and how he understood the world to work.
- Leonardo da Vinci
- Mona Lisa (La Gioconda), 1503-05
- Leonardo’s childhood home in Anchiano.
- Statue of Leonardo da Vinci at the Uffizi, Florence
- Clos Lucé in France, where Leonardo died in 1519
- The Last Supper (before restoration) 1498
- The Last Supper (after restoration) 1498

![]()
![]()
![]()
Sufi Singers of Sindh-Sohrab Faqeer October 29, 2009
Posted by Farzana Naina in Cultures, Film and Music, Music, Pakistan, Sindhi.Tags: Music, Sindhi, Sohrab Faqeer, Sufi Singer
1 comment so far
سندھ کے معروف صوفی گلوکار سہراب فقیر کا پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں جمعہ کے روز انتقال ہو گیا۔ فالج کی وجہ سے ان کی وہ آواز ختم ہو چکی تھی جسے سننے کے لیے لوگ دور دراز علاقوں سے درازہ (درازہ اس گاؤں کا نام ہے جہاں سائیں سچل مدفو ن ہیں) آتے تھے۔
سہراب فقیر کے انتقال کے ساتھ ہی صوفیوں کا کلام گانے والا ایک اور نامور فنکار کم ہو گیا۔ ان کی کمی پوری کرنے کے لیے مستقبل قریب میں کوئی نظر نہیں آتا ہے۔ اسی طرح جیسے علن فقیر کا مقام حاصل کرنے کے لیے ابھی تک کوئی سامنے نہیں آسکا ہے۔
سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا۔
سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا
انہوں نے آٹھ برس کی عمر سے صوفیوں کا کلام گانا شروع کیا تھا اور سار ی زندگی یہی کام کیا جو ان کا ذریعہ معاش تو تھا ہی لیکن محبوب مشغلہ بھی تھا۔
یہ فن انہیں ورثہ میں ملا تھا۔ ان کے والد ہمل فقیر خود اپنے وقت کے بڑے گائک تھے اورتھری میر واہ میں مدفون بزرگ شاعر خوش خیر محمد ہسبانی کے مرید تھے۔ کچھ بیٹے کو انہوں نے تربیت دی تو کچھ بیٹے کا شوق جس نے سہراب خاصخیلی کو سہراب فقیر بنا دیا۔
یہ سہراب کی اپنے فن پر گرفت اور مقبولیت ہی تھی جو حکومت کو مجبور کرتی تھی کہ انہیں طائفہ کے ساتھ بیرونی ممالک میں بھیجا جائے۔ برطانیہ ، بھارت، ناروے، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں جا کر انہوں نے سامعین سے داد وصول کی تھی۔
سائیں سچل ہفت زبان شاعر تھے اور سہراب سندھی، سرائکی، پنجابی اور اردو زبانوں میں گاتے تھے کہ جس زبان میں گایا ایسا لگا کہ یہ ان کی ہی زبان ہے۔
وہ سائیں سچل کے علاوہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، حضرت سلطان باہو، سا ئیں بھلے شاہ اور دیگر شعراء کا کلام بھی گایا کرتے تھے۔
بشکریہ بی بی سی
آؤ رانھڑا رہو رات
The Nobel Prize in Literature 2009 to Herta Müller October 29, 2009
Posted by Farzana Naina in Poetry.Tags: Books, Literature, Nobel Prize
add a comment
ہیرٹا مولر بارہویں خاتون ادیب ہیں جنہیں ادب کا نوبل اعزاز دیا گیا ہے
رومانوی نژاد جرمن ادیب ہیرٹا مولرکو سال دو ہزار نو کے لیے ادب کے نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
گزشتہ سال فرانسیسی ادیت ژاں ماغی گُستاو لکلیزیو کو نوبل پرائز دیا گیا تھا جبکہ دو ہزار سات میں ادب کا نوبل پرائز برطانوی ادیب ڈورِس لیسنگ نے حاصل کیا تھا۔
سن انیس سو تریپن کو رومانیہ میں پیدا ہونے والے ہیرٹا مولر نکولائی چاشسکو کے دور میں مشکل حالات کی تصویر کسی کے مشہور ہیں۔
ہیرٹا مولر کا کہنا ہے کہ ادب کا نوبل انعام ملنے کی خبر سن کر وہ ’دنگ رہ گئیں اور انہیں اس کا یقین نہیں آیا۔‘
سویڈش اکیڈمی نے ہیرٹا مولر کی شاعری اور نثر دونوں کی تعریف کی ہے۔
’ان میں بے دخل کیے گئے لوگوں کی حالت زار بیان کرنے بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ان کی تحریروں میں شاعری کی یکسوئی اور نثر کی بے تکلفی پائی جاتی ہے۔‘
مولر نے رومانیہ کی جرمن اقلیتی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں جنم لیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ان کی والدہ کو سویت یونین میں ایک لیبر کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا۔
انہیں ستر کی دہائی میں چاشسکو سرکار کی خفیہ پولیس سے تعاون نہ کرنے کی پاداش میں نوکری سے نکال دیا گیا جس کی وجہ سے وہ جرمنی چلی گئیں۔
سن انیس سو بہتر میں جرمن زبان میں چھپنے والے ان کے افسانوی مجموعے کو رومانیہ میں سنسر کیا گیا تھا۔
ان کی ابتدائی تحریروں کو ملک سے باہر سمگل کر دیا گیا تھا جبکہ بعد کے سالوں میں انہیں کئی ادبی اعزازوں سے نوازہ گیا۔
ادب کے نوبل ایوارڈ کے ساتھ انہیں آٹھ لاکھ بانوے ہزار پاؤنڈ کی خطیر رقم بھی دی جائے جو وہ دس دسمبر کو سٹاک ہوم میں ہونے والی ایک تقریب میں وصول کریں گے۔
http://nobelprize.org/nobel_prizes/literature/
http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2009/10/09http://nobelprize.org/nobel_prizes/literature/1008_mueller_noble.shtml
Ramadan Al Kareem 2009 September 5, 2009
Posted by Farzana Naina in Islam, Religion.Tags: Ramadan
2 comments















Farid ud-Din Attar June 13, 2009
Posted by Farzana Naina in Poetry.Tags: Farid Uddin Attar, Sufi Poet
1 comment so far
Farid ud-Din Attar was born in Nishapur, in north-east Iran. There is disagreement over the exact dates of his birth and death but several sources confirm that he lived about 100 years. He is traditionally said to have been killed by Mongol invaders. His tomb can be seen today in Nishapur.
As a younger man, Attar went on pilgrimage to Mecca and traveled extensively throughout the region, seeking wisdom in Egypt, Damascus, India, and other areas, before finally returning to his home city of Nishapur.
The name Attar means herbalist or druggist, which was his profession. It is said that he saw as many as 500 patients a day in his shop, prescribing herbal remedies which he prepared himself, and he wrote his poetry while attending to his patients.
About thirty works by Attar survive, but his masterpiece is the Mantic at-Tayr (The Conference of the Birds). In this collection, he describes a group of birds (individual human souls) under the leadership of a hoopoe (spiritual master) who determine to search for the legendary Simurgh bird (God). The birds must confront their own individual limitations and fears while journeying through seven valleys before they ultimately find the Simurgh and complete their quest. The 30 birds who ultimately complete the quest discover that they themselves are the Simurgh they sought, playing on a pun in Persian (si and murgh can translate as 30 birds) while giving us an esoteric teaching on the presence of the Divine within us.
Attar’s poetry inspired Rumi and many other Sufi poets. It is said that Rumi actually met Attar when Attar was an old man and Rumi was a boy, though some scholars dispute this possibility.
Farid ud-Din Attar was apparently tried at one point for heresy and exiled from Nishapur, but he eventually returned to his home city and that is where he died.
A traditional story is told about Attar’s death. He was taken prisoner by a Mongol during the invasion of Nishapur. Someone soon came and tried to ransom Attar with a thousand pieces of silver. Attar advised the Mongol not to sell him for that price. The Mongol, thinking to gain an even greater sum of money, refused the silver. Later, another person came, this time offering only a sack of straw to free Attar. Attar then told the Mongol to sell him for that was all he was worth. Outraged at being made a fool, the Mongol cut off Attar’s head.
Whether or not this is literally true isn’t the point. This story is used to teach the mystical insight that the personal self isn’t of much real worth. What is valuable is the Beloved’s presence within us — and that presence isn’t threatened by the death of the body.
Poems by Farid ud-Din Attar (1120? – 1220?)
The Nightingale
The nightingale raises his head, drugged with passion,
Pouring the oil of earthly love in such a fashion
That the other birds shaded with his song, grow mute.
The leaping mysteries of his melodies are acute.
‘I know the secrets of Love, I am their piper,’
He sings, ‘I seek a David with broken heart to decipher
Their plaintive barbs, I inspire the yearning flute,
The daemon of the plucked conversation of the lute.
The roses are dissolved into fragrance by my song,
Hearts are torn with its sobbing tone, broken along
The fault lines of longing filled with desire’s wrong.
My music is like the sky’s black ocean, I steal
The listener’s reason, the world becomes the seal
Of dreams for chosen lovers, where only the rose
Is certain. I cannot go further, I am lame, and expose
My anchored soul to the divine Way.
My love for the rose is sufficient, I shall stay
In the vicinity of its petalled image, I need
No more, it blooms for me the rose, my seed.
The hoopoe replies: ‘You love the rose without thought.
Nightingale, your foolish song is caught
By the rose’s thorns, it is a passing thing.
Velvet petal, perfume’s repose bring
You pleasure, yes, but sorrow too
For the rose’s beauty is shallow: few
Escape winter’s frost. To seek the Way
Release yourself from this love that lasts a day.
The bud nurtures its own demise as day nurtures night.
Groom yourself, pluck the deadly rose from your sight.
How long then will you seek for beauty here?
How long then will you seek for beauty here?
Seek the unseen, and beauty will appear.
When the last veil is lifted neither men
Nor all their glory will be seen again,
The universe will fade — this mighty show
In all its majesty and pomp will go,
And those who loved appearances will prove
Each other’s enemies and forfeit love,
While those who loved the absent, unseen Friend
Will enter that pure love which knows no end.
The Lover
‘A lover’, said the hoopoe, now their guide,
‘Is one in whom all thoughts of self have died;
Those who renounce the self deserve that name;
Righteous or sinful, they are all the same!
Your heart is thwarted by the self’s control;
Destroy its hold on you and reach your goal.
Give up this hindrance, give up mortal sight,
For only then can you approach the light.
If you are told: “Renounce our Faith,” obey!
The self and Faith must both be tossed away;
Blasphemers call such action blasphemy –
Tell them that love exceeds mere piety.
Love has no time for blasphemy or faith,
Nor lovers for the self, that feeble wraith.
Sindhi kalam sufi music
شاہد ملک نے استعفیٰ دے دیا May 15, 2009
Posted by Farzana Naina in News.Tags: British Politics, Shahid Malik
1 comment so far
شاہد ملک نے استعفیٰ دے دیا۔ ۔ ۔ ۔ بی بی سی
برطانوی لیبر پارٹی کے رکن اور وزیرِ انصاف شاہد ملک نے اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کی طرف سے لگائے گئے اخراجات میں بے قاعدگیوں کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے دی گئی گھر کے کرائے کے متعلق مراعات کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ ان پر لگائے گئے الزمات کی تحقیقات سٹینڈرڈز کے سربراہ سر فلپ مائیر کر رہے ہیں۔
شاہد ملک نے اصرار کیا ہے کہ انہوں نے وزراء کے لیے بنائے گئے کسی کوڈ کو نہیں توڑا ہے اور وہ خوش ہیں کہ انہیں صفائی کا موقع ملا ہے۔
شاہد ملک نے جو ابھی تک اخراجات کے سکینڈل کے سب سے بڑے شکار ہیں، کہا ہے کہ میڈیا میں کردار کشی کو ختم ہونا چاہیئے۔
وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے سر فلپ کو کہا ہے کہ وہ جلد از جلد الزامات کی تحقیق کریں۔ یہ رپورٹ چند دنوں میں ہی سامنے آ سکتی ہے۔
اخبار ڈیلی ٹیلیگراف نے الزام لگایا ہے کہ شاہد ملک نے تین سالوں میں لندن میں اپنے دوسرے گھر کے لیے 66،827 پاؤنڈ حاصل کیے جبکہ انہوں نے اپنے انتخابی حلقے ڈیوزبری میں اپنے مرکزی گھر کے لیے سو پاؤنڈ فی ہفتہ کا رعایتی کرایہ حاصل کیا جو کہ وہ اپنی جیب سے ادا کرتے رہے۔
شاہد ملک کرائے سے متعلق لگائے گئے اس الزام کو من گھڑت قرار دے رہے ہیں۔
. . .
مبارک ہو جی ایک اور مملکت برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی نے اپنے آپ کو اعلی مقام تک پہنچانے والی گورنمنٹ کو دھاندلی کا تمغہ دے دیا،پہلے تو لارڈ نذیر کو جو عزت ملی تھی (پاکستانی ہونے کے ناطے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں پہنچنے کی)، اس پر انہوں نے عورتوں سے فحش ٹیکسٹ کرتے ہوئے ایک انسان کے اوپر گاڑی چڑھادی اور نشے کی حالت میں اپنے آپ کو یہ سوچنے کی زحمت نہیں دی کہ جو شخص ان کی جذباتی تسکین کے لئیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اس کے گھر والوں پر ساری زندگی کس دکھ کا سایہ رہے گا، اثر رسوخ سے وہ تو بچ گئے، اب نئی نسل کے شاہد ملک جن سے ایسے کام کی توقع نہیں تھی انہوں نے بھی ثبوت دے دیا کہ برطانیہ والے اپنے ہی ملک میں دوسری قوموں کو عزت اگر دیں گے بھی تب بھی ہم ان کی تھالی میں چھید ضرور کریں گے۔ ۔ ۔ واہ واہ واہ
ہمارا نصیب ہے کہ ہم اس ملک میں شرمندگی سے ہمیشہ نظریں جھکا کر چلتے رہیں گے اور اگر اپنی حرکتوں پر ثبوت سمیت مورد الزام ٹہرائے جائیں تب بھی سینہ زوری کے اصول کے تحت برطانیہ والوں کو ہی چور بنائیں (نسلی بغض و عناد کے حربے سے)۔
چلیں یہ سب ٹھیک ہے آپ لوگ جان کی بازی لگا کر بری بھی ہو جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانیوں پر ہی کیوں ایسے الزامات لگتے ہیں؟
جائیے ذرا پاکستان میں اپنی تنظیمیں بنائیے اور سڑکوں پر حکومت کے خلاف ایک تقریر کیجئے اس کے بعد دیکھئے کہ جیل میں کون سڑتا اور کوڑے کھاتا ہے، کون سا عہدہ اور کہاں کی سفارش کام آتی ہے،
یہ برطانیہ ہی ہے جو سب کو اپنے ملک میں انسانی حقوق کی کچھ تو عزت رکھتے ہوئے اس مقام تک آپ کو آنے کی اجازت دیتا ہے۔
Aansoo-آنسو May 13, 2009
Posted by Farzana Naina in Poetry.Tags: Aansoo, Video
add a comment
The Heat of Midnight Tears
Listen, my friend, this road is the heart opening,
Kissing his feet, resistance broken, tears all night.
If we could reach the Lord through immersion in water,
I would have asked to be born a fish in this life.
If we could reach Him through nothing but berries and wild nuts,
Then surely the saints would have been monkeys when they came from the womb!
If we could reach him by munching lettuce and dry leaves,
Then the goats would surely go to the Holy One before us!
If the worship of stone statues could bring us all the way,
I would have adored a granite mountain years ago.
Mirabai says: The heat of midnight tears will bring you to God.

The Music
My friend, the stain of the Great Dancer has penetrated my body.
I drank the cup of music, and I am hopelessly drunk.
Moreover I stay drunk, no matter what I do to become sober.
Rana, who disapproves, gave me one basket with a snake in it.
Mira folded the snake around her neck, it was a lover’s necklace, lovely!
Rana’s next gift was poison: “This is something for you, Mira.”
She repeated the Holy Name in her chest, and drank it, it was good!
Every name He has is praise; that’s the cup I like to drink, and only that.
“The Great Dancer is my husband,” Mira says, “rain washes off all the other colors.”
sufi music
Happy New Year 2009 December 31, 2008
Posted by Farzana Naina in Poetry.Tags: New Year
add a comment
One resolution I have made, and try always to keep, is this: To rise above the little things.


For last year’s words belong to last year’s language
And next year’s words await another voice.
And to make an end is to make a beginning.
~T.S. Eliot, “Little Gidding
Good resolutions are simply checks that men draw on a bank where they have no account. ~Oscar Wilde
We meet today
To thank Thee for the era done,
And Thee for the opening one.
~John Greenleaf Whittier
Al-Hejra: The Islamic New Year December 31, 2008
Posted by Farzana Naina in Greetings, Islam.Tags: Al Hejra, Islamic Year
add a comment






Sindhi Poet Taj Mohammed December 13, 2008
Posted by Farzana Naina in Poetry, Sindhi.Tags: Poetry, Sindh
add a comment

- Renowned Sindhi Poet Taj Mohammed

بشکریہ ۔ بی بی سی
سندھی زبان کے شاعر تاج محمد عرف تاجل بیوس کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر ستر برس تھی۔
گزشتہ دنوں تاجل بیوس کی دماغ کی نس پھٹ گئی تھی جس کے بعد وہ مقامی ہسپتال میں مسلسل کوما میں رہے، جہاں سنیچر کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔
شیخ ایاز کے بعد وہ سندھی زبان کے دوسرے بڑے شاعر تھے، انہوں نے نظم کے ساتھ نثر میں بھی طبع آزمائی کی ، وہ چونتیس کتابوں کے مصنف تھے جبکہ ان کی دس کتابیں زیر اشاعت ہیں۔
تاجل بیوس نے بائیس ستمبر انیس سو اڑتیس کو ضلع خیرپور کے شہر صوبھو دیرو میں جنم لیا۔انہوں نے اقتصادیات میں ایم اے کیا تھا، جس کے بعد انیس سو ساٹھ میں درس و تدریس سے منسلک رہے بعد میں وزارت کارپوریٹ میں تعینات ہوئے، جہاں سے بطور رجسٹرار کمپنیز ریٹائرڈ ہوئے۔
تاج بیوس ان چند سندھی ادیبوں میں سے تھے جن کا شمار متحدہ قومی موومنٹ کے ہمدردوں میں ہوتا تھا، سخت تنقید کا نشانہ بننے کے بعد انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔
ان کی آخری کتاب بینظیر بھٹو پر کیڈارو کے نام سے شائع ہوئی تھی، جس میں انہوں نے بینظیر بھٹو کی جدوجہد اور فکر کا احاطہ کیا ہے۔ کیڈارو واقعے کربلا کے پس منظر میں لکھا جاتا ہے۔
تاج محمد کی شاعری میں دھرتی سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے، وہ لکھتے ہیں ’سندھ میری ماں، کوئی تمہیں کاری سمجھتا ہے، تمہارے سینے کو بموں سے اڑاتا ہے ، کوئی انسانی لہو سے تمہارے دامن کو سرخ کردیتا ہے مگر پھر بھی تم ہر دور میں مومل اور قلو پطرہ کا روپ لیکر جنم لیتی رہی ہو‘۔
شیخ ایاز نے اپنی زندگی میں ہی انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے بعد تاجل بیت اور وائی کی صنف کے اس دور کے بڑے شاعر ہیں۔
تاجل بیوس بھارت میں بھی سندھی ادبی حلقوں میں شہرت رکھتے تھے۔ ایک بھارتی ادیب لچھمن کومل انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاجل کی شاعری پڑھنے کے بعد دل چاہتا ہے کہ انہیں بھی بخش علی لاکھو کی طرح قید میں رکھا جائے، دن کو تاجل بیوس کی شاعری اور رات کو ایک جام دیں باقی زندگی عیش میں گزر جائے گی۔
تاجل بیوس نے رائٹر گلڈ اور سہیوگ فاؤنڈیشن بمبئی کی جانب سے نارائن شیام ایوراڈ سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے۔
ان کی اکثر شاعری میں دھرتی سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے، وہ لکھتے ہیں
’سندھ میری ماں، کوئی تمہیں کاری سمجھتا ہے، تمہارے سینے کو بموں سے اڑاتا ہے ، کوئی انسانی لہو سے تمہارے دامن کو سرخ کردیتا ہے مگر پھر بھی تم ہر دور میں مومل اور قلو پطرہ کا روپ لیکر جنم لیتی رہی ہو٬٬ ‘
تاجل بیوس کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق کراچی میں واقع تاریخی قبرستان چوکھنڈی کے قریب کی جائے گی۔
Iblees kia tha? November 28, 2008
Posted by Farzana Naina in Random.Tags: Angel, Iblees
1 comment so far
Iblees kia tha?
40,000 Baras tak jannat ka Khazanchi
80,000 Baras tak Malaika ka Sathi
20,000 Baras tak Malaika ko Waaz Sunata raha
30,000 baras tak Muqarben ka Sardar
1,000 Baras tak Rohaneen ka sardar
14,000 Baras tak Arsh ka tawaf karta raha
1st Asman pe Naam Abid tha
2nd per Zahid
3rd per Arif
4th per Wali
5th per Taqi
6th per Khazan
7th per Azazel
Louh E Mehfooz main Iblees tha
GHUROOR AUR TAKABBUR ne kia se kia Bana dia
Quantum of Solace (2008) is the 22nd James Bond film November 4, 2008
Posted by Farzana Naina in Film and Music.Tags: James Bond, Quantum of Solace
add a comment
بانڈ فلم نے ریکارڈ توڑ دیے
اولگا کوریلنکو اس فلم میں بانڈ کے ساتھ ہیں
سونی سٹوڈیو نے کہا ہے کہ بانڈ سیریز کی نئی فلم نے ریلیز کے پہلے ہی دن برطانیہ میں باکس آفس کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور فلم نے 4.9 ملین پاؤنڈز کا بزنس کیا ہے۔
اس فلم نے ‘ہیری پوٹر اینڈ دا گوبلیٹ آف فائر‘ کی اوپننگ کا ریکارڈ توڑا ہے۔ اس فلم نے ریلیز کے پہلے دن 4.025 ملئین پاؤنڈ کا بزنس کیا تھا۔
‘ کوانٹم آف سولیس‘ نامی اس فلم ميں ڈینئل کریگ بطور ہیرو اداکاری کر رہے ہیں۔

فلم کی عوام کے لیے ریلیز سے قبل بدھ کو لندن میں ہوئے ورلڈ پریمیئر میں پرنس ولیم اور پرنس ہیری بھی شامل ہوئے تھے۔
پہلے دن کے بزنس نے دو ہزار چھ کی بانڈ فلم ‘کسینو رویال‘ کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس فلم نے ریلیز کے پہلے دن 2.9 ملین پاؤنڈز کا بزنس کیا تھا۔ حالانکہ ‘کسینو رویال ‘ کی ناقدین اور فلم شائقین دوونوں کی ہی جانب سے کافی ستائش کی گئی تھی۔
‘ کسینو رویال‘ میں ہی پہلی مرتبہ ڈینئل کریگ نے بانڈ کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم سال دو ہزار چھ کی سب سے مقبول فلم کے طورپر سامنے آئی تھی اور اس نے برطانیہ کے باکس آفس پر 50 ملین پاؤنڈز کا بزنس کیا تھا۔
بانڈ سیریز کی حالیہ فلم کی کہانی ميں بانڈ اپنی معشوقہ کے قاتلوں سے بدلہ لیتا ہے۔ فلم ناقدین نے اس فلم پر ملا جلا ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔
ڈیلی ٹیلی گراف میں مارک موناہن نے لکھا ہے’ فلم دیکھنے والوں کو بانڈ کے کردار میں کریگ ضرور متاثر کریں گے ۔ ان کا کردار ایک غصیل، غیر جزباتی اور جنون سے بھرا ہوا ہے۔ ‘
انہوں نے مزید لکھا ہے’ لیکن بعض مکالمے بے حد سست ہیں اور اس انداز میں لکھے گئے ہیں کہ یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اصل میں دھوکہ کس کو کون دے رہا ہے۔‘
ٹائمز میں جیمز کرسٹوفر نے لکھا ہے کہ یہ ایک دلچسپ فلم اور نئے بانڈ کے علاوہ اس فلم میں کوئی اور اتنا اچھا کام نہیں کر سکا ہے۔

ائین فلیمنگ کے خطوط کی نیلامی
خطوط کی نیلامی فیلیمنگ کی پیدائش کے سوویں سال کے موقع پر کی جا رہی ہے
مشہورِ زمانہ جاسوس جیمز بونڈ کے خالق ائین فلیمنگ اور ان کی حقیقی مس مینی پینی کے خطوط کی نیلامی کی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ بولی ہزارہا پاؤنڈ تک جائے گی۔
جیمز بونڈ کی فلموں میں مس مینی پینی برطانوی خفیہ ادارے کے ایجنٹ جیمز بونڈ کے سربراہ ‘ایم‘ کی سیکریٹری کے طور پر جانی جانے والی مس مینی پینی کا نام فلیمنگ کے افسانوی کردار کے طور پر جین مینی پینی ہوتا ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ فلیمنگ کی ٹائپنگ سیکریٹری کے طور پر جس خاتون کا انتخاب کیا گیا اس کا نام بھی جین سے شروع ہوتا ہے۔
جین فریمپٹن کو شروع میں فلیمنگ کے کردار 007 کے مسودوں کو ٹائپ کرنے کے لیے ملازم رکھا گیا تھا لیکن فریمپٹن نے بتدریج اس کام میں اس حد تک مہارت حاصل کر لی کہ کہانی کی نباوٹ میں بھیح مشورے دینے لگی۔
نیلامی کے پیش کیے جانے والے خطوط میں فلیمنگ کے ناولوں ‘تھنڈر بال‘، ‘کیو اینڈ لِٹ ڈائی‘ اور ‘مین ود گولڈن گن‘ کا ذکر آتا ہے۔
ان کی خطوط کی نیلامی ڈورسٹ نامی نیلام گھر کر رہا ہے جسے نیلامی کرنے والوں کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے۔
فیلیمنگ کی پیدائش کے سوویں سال کے حوالے سے ان خطوط میں غیر معمولی دلچسپی پائی جاتی ہے۔
فیلنگ نے مسز فریمپٹن کے نام 1960 میں لکھے جانے والے ایک خط میں فلیمنگ نے اپنے ‘ناول تھنڈر بال‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے: ‘میرا خیال ہے کہ یہ ٹرانسکرپٹ کچھ اچھا نہیں ہے۔ میں انتہائی ممنون ہوں گا اگر آپ اس کے کسی پہلو کے بارے میں اپنی ذہانت کو بروئے کار لائیں‘۔
مسز فریمپٹن کو کبھی فلیمنگ سے ملنے کا موقع نہیں ملا لیکن وہ ان کے جاسوس کردار میں کی مہم جوئیوں میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور انہوں نے ایک موقع پر فلیمنگ کو لکھا: ‘مجھے اب تک تھنڈر بال کے اختتام پر تاسف ہے، مس سوچتی ہوں بلوفِلڈ کا کیا ہوا؟ کیا وہ ایک اور محاذ آرائی کے لیے زندہ رہا‘۔
فلمی کردار بونڈ اور مس میینی پینی فلیمنگ کے تخلیق کردہ ایسے کردار ہیں جن میں لوگوں کی دلچسپی اب تک ختم نہیں ہوئی
نیلامی کی معاون ایمی برینن کا کہنا ہے کہ ‘مسز فریمپٹن دراصل ایک ذہین خاتون تھیں۔ انہوں فرانسیسی زبان میں بھی ڈگری کی تھی جسے انہوں نے اپنے گھر والوں سے خفیہ رکھا تھا‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘ اس کے علاوہ بھی ان میں کئی خوبیاں تھیں۔ وہ ناول ٹائپ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھنے میں بھی گھری دلچسپی رکھتی تھیں۔ اسی دلچسپی کی بنا پر وہ ناولوں کی کہانیوں کے بارے میں بھی رد و بدل کے مشورے دینے لگیں اور در حقیقیت فلیمنگ ان کے ایسے مشورے کا خیرمقدم بھی کرتے تھے‘۔
ایمی برینین کا کہنا ہے کہ ‘ٹائپسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فلیمنگ کے ناولوں کی ایڈیٹر بھی تھیں اس کے علاوہ انہیں ہی سب سے پہلے فلیمنگ کے ناولوں کو پڑھنے کا موقع ملتا تھا‘۔
برینین کے مطابق ‘ان کے تعلقات پیشہ ورانہ بھی تھے اور دانشورانہ سطح پر ذاتی بھی‘۔
Courtesy Of BBC
Quantum of Solace (2008) is the 22nd James Bond film by EON Productions, released in the United Kingdom on 31 October 2008 and due in North America on 14 November. The sequel to the 2006 film Casino Royale, it is directed by Marc Forster, and features Daniel Craig’s second performance as James Bond. In the film, Bond battles Dominic Greene (Mathieu Amalric), a member of the Quantum organisation posing as an environmentalist, who intends to stage a coup d’état in Bolivia to take control of its water supply. Bond seeks revenge for the death of Vesper Lynd, and is assisted by Camille (Olga Kurylenko).
Producer Michael G. Wilson created the film’s plot while Casino Royale was shooting. Neal Purvis, Robert Wade, Paul Haggis and Joshua Zetumer contributed to the script. The title was chosen from a 1960 short story in Ian Fleming’s For Your Eyes Only, though the film does not contain any elements of the original story. Location filming took place in Panama, Chile, Italy and Austria, while interior sets were built and filmed at Pinewood Studios. Forster aimed to make a modern film that also featured classic cinema motifs: an antique aeroplane was used for a dogfight sequence, and Dennis Gassner’s set designs are reminiscent of Ken Adam’s work on several early Bond films. Taking a course away from the usual Bond villains, Forster rejected any grotesque appearance for the character Dominic Greene to emphasize the hidden and secret nature of the film’s (and society’s) modern day corporate villains.

Happy Eid – عید الفطر مبارک September 13, 2008
Posted by Farzana Naina in Greetings.Tags: Eid, Greetings
add a comment
عظیم صوفی شاعر سچل سرمست September 6, 2008
Posted by Farzana Naina in Poetry, Urdu.Tags: Sachal Sar Mast, Sufi Poet
add a comment
>>>>***<<<<
خیرپور+گمبٹ – سندھ کے عظیم صوفی شاعر حضرت سچل سرمست کا 187 واں عرس درازہ شریف 14 رمضان المبارک کو شروع ہوگا۔ انتظامات کیلئے ای ڈی او ریونیو احمد علی قریشی کی صدارت میں سچل یادگار کمیٹی کی سب کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں صوفی راگ گانے والوں، ادیبوں، شاعروں اور نامور فنکاروں کی فہرست کو حتمی شکل دی گئی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ درگاہ پر پھولوں کی چادر چڑھا کر عرس کا افتتاح کریں گے۔ ثقافت اور سیاحت کے محکمے کی طرف سے نیشنل ادبی کانفرنس ہوگی۔ اجلاس میں عابدہ پروین، حمیرا چنہ، احمد مغل، صوفی شاعروں سہراب فقیر، موٹن شاہ، فقیر سوہنو، شمن فقیر، زاہدہ پروین، شاہدہ پروین اور دیگر فنکاروں کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
***پیدائش : 1739
وفات : 1242 ھجری
سندھی زبان کے مشہور شاعر جو عرف عام میں ہفت زبان شاعر کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ کا کلام سات زبانوں میں ملتا ہے۔ سچل سرمست کی پیدائش 1739ء میں سابق ریاست خیرپور کے چھوٹے گاؤں درازا میں ایک مذہبی خاندان میں ہوئی۔ان کا اصل نام تو عبدالوہاب تھا مگر ان کی صاف گوئی کو دیکھ کر لوگ انہیں سچل یعنی سچ بولنے والا کہنے لگے۔ بعد میں ان کی شاعری کے شعلے دیکھ کر انہیں سرمست بھی کہا گیا۔ سچل سرمست کی پیدائش سندھ کے روایتی مذہبی گھرانے میں ہوئی مگر انہوں نے اپنی شاعری میں اپنی خاندانی اور اس وقت کی مذہبی روایات کو توڑ کر اپنی محفلوں میں ہندو مسلم کا فرق مٹا دیا۔ان کے عقیدت مندوں میں کئی ہندو بھی شامل ہیں۔ سچل سرمست تصوف میں وحدت الوجود کے قائل تھے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی زندگیوں میں ستر برس کا فاصلہ ہے۔ سچل ستر برس بعد جب صوفیانہ شاعری میں آیا تو ان کی وجدانیت بھی منفرد تھی۔ان کے ساتھ صوفی ازم کی موسیقی نے بھی سرمستی کا سفر کیا اور شاہ بھٹائی کے نسبتاً دھیمے لہجے والے فقیروں سے سچل کے فقیروں کا انداز بیان منفرد اور بیباک تھا۔
سچل سرمست نے سندھ کے کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے ایسے دور اقتدار میں زندگی بسر کی جب مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر تھی۔انہوں نے اپنے آس پاس مذہبی نفرتوں کو دیکھ کر سندھی میں کہا:
مذہبن ملک میں ماٹھو منجھایا، شیخی پیری بیحد بھلایا۔
جس کا سادہ ترجمہ اس طرح ہے کہ مذہبوں نے ملک میں لوگوں کو مایوس کیا اور شیخی، پیری نے انہیں بھول بھلیوں میں ڈال دیا ہے۔
سچل سرمست نوّے برس کی عمر میں 14 رمضان 1242ء ھجری میں وفات کر گئے۔وہ شادی شدہ تھے مگر ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔انہوں نے بنیادی عربی فارسی کی تعلیم اپنے خاندان کے بزرگ اپنے چچا مرشد اور سسر خواجہ عبدالحق سے حاصل کی۔سچل سرمست کا کلام سندھی، اردو، عربی، فارسی اور سرائیکی میں موجود ہے۔ انہیں اور ان کا کلام سنانے والے فقیروں کو سندھ میں ایک منفرد مقام اس لیے بھی حاصل ہے کہ کسی بھی محفل میں جب بھی مذہبی انتہا پسندی کو للکارا جاتا ہے تو آج بھی سہارا سچل کا لیا جاتا ہے۔
یہ معلومات وکیپیڈیا سے لی گئی ہے
***
Sachal Sarmast (1739-1829) (Sindhi: سچلُ سرمستُ ) (Urdu: سچل سرمست ) was a renowned Sindhi Sufi poet during the Kalhora era. Abdul Wahab was his real name and “Sachal” was the name he used in his own poetry. Sachu means truth in Sindhi and Sachalu means truthful. Sarmast means mystic in Sindhi and Urdu. Suchal Sarmast literally means ‘truthful mystic’. Sachal Sarmast was an ardent follower of Wahdat-ul-Wujood, an Islamic Philosophy synonymous with Hamah Oost.
Poetry of Sachal Sarmast
The brave speak the truth
Let others like it or not;
For the talk of false friendship we care not.
“Sarmast” (pronounced Sarimastu in Sindhi, meaning leader of the ‘intoxicated’ or ‘mad’) is the title often used by his followers. The title, given to him first by Agha Sufi, a compiler of his Risalo (collection of poems), refers to the fact that Sachal was intoxicated by love.
Sachal Sarmast was an ardent follower of Wahdat-ul-Wujood (unity of existence), an Islamic Philosophy synonymous with Hamah Oost (all from One), and Advaita Vedanta philosophy. The concept of Hamah Oost (all from One) is similar to that found in Advaita Vedanta philosophy. Sachal says (translation by Gul Agha):
There is no other Beloved,
There is only what I see everyday!
I was sitting by the roadside,
When the path became clear to me;
In the palace the Beloved I saw,
a glimpse the Beauty gave;
Through the window was the vision,
a glimpse the Beauty saw;
Take care of the ignorant;
Our bond was made for a reason.
I truly recognized the Lord,
My companion He sure became;
‘He is the Creator of all
and intrinsic to all’,
All doubts in this perished;
With happiness shall I carry
Sisters, if your trust I have.
All the journeys, all the manifestations
The Dear One’s own;
Friend ‘Sachal’ know this correctly,
Slumber has created illusions.
Like other sufis of Sindh, Sachal made no distinctions based on religion, but regarded love as the path to spirituality:
‘Tis not in religion I believe
‘Tis love I live in.
When love comes to you.
Say Amen!
‘Tis not with the infidel
that love resides
Nor with the faithful.
Rather, Sachal advocated self-realization as the path to liberation. Sachal says (translation by Jethmal Parsram Gulrajani):
O friend! this is the only way to learn
the secrets of the path:
Follow not the road of another, however
virtuous he may be.
Rend the veil over thee,
Searcher expose thy being.
Books on Sachal
Study of Mysticism in Darazi:
School of Sufi Thought:
Author: Dr.Sakhi Qabool Muhammad Faruqi: -Sajjada Nashin.: Publisher: Darazi Publications:
Priceless Pearls Picked from Wonderous Waters of Wisdom:
Author: Dr.Sakhi Qabool Muhammad Faruqi – Sajjada Nashin.:
SachalSarmast:
Edited by:Tanveer Abbasi: Publisher: Sachal Chair:
SachalJo Kalam urf Aashiqi Ilham (Sindhi):
Publisher: Sachal Chair:
Muntakhab alam Sachal Sarmast (Urdu):
Publisher: Sachal Chair:
Sachal Sarmast (Sindh):
Author – Jethmal Parsram : Publisher-Sachal Chair: Sarmast(Sindhi) Arrangedby: Muhammad Ali Hadaad Publisher: Sachal Sarmast Yadgar Committee.
Sachal Sarmast Ja Talib (Sindhi):
Author – Dr.Nawaz Ali Shauq: Publisher-Sachal Chair

Happy Ramadan September 1, 2008
Posted by Farzana Naina in Religion.Tags: Fasting, Islam, Islamic Month, Muslim, Ramadan, Religion
add a comment
Wishing you all
A Very Happy & Blessed MONTH
It’s the time of year to take spiritual stock
Of the things we are doing and the things we are not
It’s a blessed month and our chance to be
Cleansed of our sins if we fast sincerely
Its not just about taking no food and drink
Every part of our body should refrain from sin
Guarding eyes, ears, tongue, our body as a whole
With the conscious intent of purifying the soul.
This will soften our hearts, we will feel the pain
Of those that have little of our worldly gains
The reward of good deeds is many times multiplied
So give money, food, help, whatever you like
Make the mind and body prostrate to the Lord
Let the Quran’s message become food for your thoughts
Don’t miss the Taraweeh, such blessings it holds
It’s a great opportunity to add to the score
Remember, this is the month that generates Taqwa
Doing all those things that bring us close to Allah
Restraining ourselves from the deeds He dislikes
Having love, fear, respect, all these feelings inside
This month brings with it glad tidings, good cheer
It’s the best kind of training for the rest of the year



















































































































































